Published From Aurangabad & Buldhana

باالآخر اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن نے پانی کیلئے

15 لاکھ شہریان کو کمپنی کا غلام بنادیا ! 10سال بعد شہریان کو دینا ہوگا 42ہزار روپیے سالانہ ٹیکس‘ کانگریس کا واک آو ¿ٹ‘ مجلس کی غیر موجودگی معنی خیز! =کمپنی کو 30 مہینوں میں پروجیکٹ مکمل کرنا ہوگا=ہر نل کنکشن کو واٹر میٹر نصب کئے جائیں گے 30= ستمبر2022 تک پانی ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔10=سال بعد 42ہزار روپیے سالانہ ٹیکس دینا ہوگا=پروجیکٹ کے لئے اضافی 289 کروڑ روپئے درکار =پروجیکٹ کے اضافی کاموں کے لئے درکار 115 کروڑ روپئے حکومت سے مہیا کروانے کا مطالبہ=جی ایس ٹی کے 95 کروڑروپئے کمپنی ادا کرے گی=کمپنی کو 79.22 کروڑ روپئے نیشنلائز بنک میں فکس ڈپازٹ کرنا لازمی ہوگا ۔

اورنگ آباد 4 ستمبر(سینئر رپورٹر)اورنگ آباد سٹی واٹر یوٹیلیٹی کمپنی کے ذریعہ پیش کردہ پرپوزل میں معمولی سا ردوبدل کرکے میئر نندکمار گھوڑیلے نے بالآخر آج عوام مخالف کمپنی کے معاہدہ بحالی کی قرارداد کو منظوری دے دی۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ایس ایل ی نمبر 32415-16/2016 اور 1-10-2016کو جی بی میں رد کئے گئے کمپنی کے معاہدہ کے ساتھ ہائی کورٹ کے 24-10-2016 کے کمپنی مخالف فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے میئر گھوڑیلے نے شہر کی 15 لاکھ آبادی کے لئے پانی فراہمی کو بنیاد بنایا۔ کئی کئی دنوں کے ناغہ سے آبرسانی ہونے کے باعث اس ادھورے پروجیکٹ کو مکمل کرنا ضروری ہونے کی بات کہی۔کمپنی آربٹریشن اور سپریم کورٹ سے رجوع ہو چکی ہے ۔ لیکن کمپنی نے سپریم کورٹ میں عدالت سے باہر تنازعہ حل کرنے کی درخواست داخل کی تھی، اسی کے تحت کمشنر نے جی بی کے روبرو معاہدہ بحالی کی تجویز پیش کی ۔ اس تعلق سے منعقدہ جی بی کسی نہ کسی وجہ سے ملتوی ہوتی رہی اور 27 اگست کو چرچا مکمل کرلی گئی۔ اسی چرچا کے مطابق قرارداد کے ہر پہلو پر باریک بینی سے غوروخوض اور قانونی و عدالتی پہلوو ¿ں کا مطالعہ و تصدیق کرنے کے بعد آج اس پر حتمی فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ میئر گھوڑیلے نے 15 نکاتی رولنگ میں واضح کیا کہ پروجیکٹ مکمل کرنے ترمیم شدہ اسٹیمیٹ تیار کیا جائے، جس کی تکنیکی منظوری مہاراشٹر جیون پرادھیکرن سے لی جائے۔ نئے مائل اسٹون کو منظورکئے جانے کے بعد 30 مہینوں میں کمپنی کو پروجیکٹ مکمل کرنا ہوگا۔ پہلے مرحلہ میں جائیکواڑی ڈیم تا نکشترواڑی مین لائن کی تنصیب کمپنی کو کرنی ہوگی۔ اس کے بعد شہری حدود میں جہاں کہیں پانی ٹاکیاں ضروری ہیں، ان کی تعمیراور ٹرانسمیشن مینس ڈالے جائیں ۔ اس کے بعدہر نل کنکشن کو واٹر میٹر نصب کئے جائیں ۔ 2022 تک یعنی چار سال پانی ٹیکس میں کوئی اضافہ
نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد پانی ٹیکس کم کرنے سے متعلق میونسپل انتظامیہ کمپنی کو اعتماد لے کر فیصلہ کرے گا۔پروجیکٹ کے لئے درکار اضافی 289 کروڑ روپئے حکومت نے فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، لہذا حکومت کے اسی وعدہ و اعلان کو ملحوظ رکھتے ہوئے کمپنی کی معاہدہ بحالی کی قرارداد کو درستی کے ساتھ منظور کیا جاتا ہے۔میئر نے رولنگ میں مزید کہا کہ 2014 میں کمپنی کو شہر کا واٹر سپلائی سسٹم ہینڈ اوور کیا گیا تھا، تب سے آبرسانی نظام کارپوریشن کے ہینڈاوور ہونے کے دوران کمپنی کے کام کاج اور وصولی کا مکمل آڈٹ کیا جا ئے اور آڈٹ رپورٹ پیش کی جائے۔ 30 مہینوں میں پروجیکٹ مکمل کرنا ہے، لیکن جس دن سے باضابطہ کام شروع ہوگا ، اس دن سے یہ 30 مہینوں کی معیاد شمار کی جائے گی۔ کام کرنے کے لئے درکار مختلف محکمہ جات کی لازمی پرمیشن و این او سی حاصل کرنا کمپنی کی ذمہ داری ہوگی، میونسپل کارپوریشن ضروری تعاون دے گی۔ پروجیکٹ کے لئے درکار فنڈ کمپنی کس طرح اور کہاں سے حاصل کرے گی، اس کی مکمل تفصیلات کارپوریشن کو دینا کمپنی کے لئے لازمی ہوگا۔ فنڈ کے سبب پروجیکٹ کا کام کہیں بھی رکنا یا متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ فائنانشیل کلوزر کے معاملہ میں انتظامیہ کمپنی کو تعاون دے گا۔ قرض یا فنڈ کی حصولیابی کے لئے کارپوریشن کی کوئی املاک گروی ہیں رکھی جائے گی۔ پروجیکٹ کی لاگت میں 79 کروڑ کا اضافہ ہوا ، اس کے لئے کارپوریشن ذمہ دار نہیں ہے ، لہذا اس معاملہ میں حکومت فیصلہ کرے یا اپنی سطح پر کمپنی کو مالی تعاون دے۔ اس تعلق سے کارپوریشن حکومت سے سفارش کرے گی۔ پروجیکٹ کے اضافی کاموں کے لئے درکار 115 کروڑ روپئے حکومت مہیا کروائے، کارپوریشن کی جانب سے اس ضمن میں پرپوزل پیش کیا جائے گا۔ اسی طرح جی ایس ٹی کے 95 کروڑروپئے کمپنی ادا کرے گی، کارپوریشن مالی بحران کا شکار ہے، اس لئے حکومت یا تو جی ایس ٹی معاف کرے یا مالی امداد کرے۔پروجیکٹ کی اشیاءجو پہلے منظور ہو چکی ہیں، ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ کمپنی جتنا کام کرے گی اس کی سہ ماہی پیمائش کرنے کے بعد اس کام کی 20 فیصد رقم کمپنی کو کارپوریشن ادا کرے گی۔ کمپنی کے لئے لازمی ہوگا کہ 79.22 کروڑ روپئے نیشنلائز بنک میں فکس ڈپازٹ کرے۔30 ستمبر2022 تک پانی ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ معاہدہ بحالی کے بعد آربٹریشن میں پیش کرکے وہاں جاری مقدمہ خارج کروانا کمپنی کے ذمہ ہوگا۔ کمپنی نے ایس پی ایم ایل کے بجائے ای ایس ایس ای ایل کوپارٹنر بنانے کی تجویز رکھی ہے۔ اس تعلق سے انتظامیہ متعلقہ محکمہ اور ماہرین سے مشورہ کرکے فیصلہ کرے۔ منظورشدہ قرارداد کے خلاف عدالت میں مقدمہ نہ ہو، اس تعلق سے کمشنر تیاری کریں۔ سپریم کورٹ میں کمپنی اس فیصلہ کو داخل کرے۔ میئر نے دعوی کیا کہ کمپنی کے بجائے کارپوریشن اور عوام کے مفادات کا اس فیصلہ میں پورا پورا تحفظ کیا گیا ہے۔ میئر کے اس فیصلہ کی کانگریس ممبران نے جم کر مخالفت کی ۔ کسی بھی اعتراض کو خاطر میں نہ لائے جانے سے مشتعل کانگریس کارپوریٹر افسرخان اور شیخ سہیل نے قرارداد کو پھاڑ کر پرزہ پرزہ کر دیئے اور سبھی کانگریس کارپوریٹرس نے نعرہ بازی کرتے ہوئے جی بی سے واک آو ¿ٹ کیا۔دوسری طرف مجلس کے اپوزیشن لیڈر ضمیر قادری نے حیدرآباد میں منعقدہ اپنی پارٹی کی سالانہ میٹنگ کے پیش نظر جنرل باڈی میٹنگ کو ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جسے میئر نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

مجلس کی غیر موجودگی سے شہر میں چہ مہ گوئیاں

سٹی واٹر یوٹیلیٹی کمپنی کی روزِ اوّل سے مخالفت کرنے اور اس کمپنی کےخلاف باضابطہ ایک کمیٹی بنانے والے مجلس کے کارپوریٹر عین اُس دن ہاﺅس سے غائب تھے جس دن یہ تجویز کو منظور کیا جانا تھا، حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ مجلس کے کارپوریٹر اپنی سالانہ میٹنگ کو عوامی مفادات کے پیش نظر ملتوی کرکے اس تجویز کی پرزور مخالفت کرتے۔ مجلسی کارپوریٹروں کی عین وقت پر غیر حاضری سے شہر میں کارپوریٹروں سے متعلق چہ مہ گوئیاں جاری ہےں‘ عوام میں چرچہ ہیکہ کارپوریٹروں نے عوامی مفادات سے زیادہ پارٹی میٹنگ کو اہمیت دی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!