Published From Aurangabad & Buldhana

بائیں بازو تھنکرس کی گرفتاری پر روک ، سپریم کورٹ نے کہا : مخالفت کو روکیں گے تو ٹوٹ جائے گی جمہوریت

سپریم کورٹ نے پانچ افراد کی گرفتاری کے معاملے میں مہاراشٹر حکومت سے جواب طلب کیا اور اگلے حکم تک تمام ملزمان کو نظربند رکھنے کی ہدایت دی۔

سپریم کورٹ نے پانچ انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری کے معاملے میں بدھ کو مہاراشٹر حکومت سے جواب طلب کیا اور اگلے حکم تک تمام ملزمان کو نظربند رکھنے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم كھانولكر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے پانچوں ملزمان سدھا بھاردواج، گوتم نولكھا، ارون فریرا، وی گونجالویز اور پی ورورا راؤ کی ٹرانزٹ ریمانڈ پر روک لگاتے ہوئے انہیں اگلے حکم تک گھر میں نظر بند رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
کورٹ نے مؤرخ رومیلا تھاپر، دیوكي جین، پربھات پٹنائک، ستیش دیش پانڈے اور ماجہ داروالا کی ایک مشترکہ درخواست کی فوری سماعت کرتے ہوئے مہاراشٹر حکومت کو نوٹس جاری کر کے اگلے بدھ (پانچ ستمبر) تک جوابی حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے اگلی سماعت کے لئے 6 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

سماعت کےد وران عدالت نے کہا کہ عدم اتفاق یا نا اتفاقی ہماری جمہوریت کے سیفٹی والو ہیں ، اگر آپ پریشر کوکر میں سیفٹی والو نہیں لگائیں گے تو وہ پھٹ سکتاہے ۔ لہذا عدالت ملزمین کو عبوری راحت دیتے ہوئے اگلی سماعت تک ان کی گرفتاری پر روک لگاتی ہے ، تب تک سبھی ملزمین گھر میں نظر بند رہیں گے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!