Published From Aurangabad & Buldhana

اے ایم یو میں بھڑکا جناح تنازع: مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارچ ، آنسو گیس کے چھوڑے گولے

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تصویرکو لیکر شروع ہوا تنازع بدھ کو سنگین شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔اس دوران اکھل بھارتیہ ودھارتی اور ہندو ہوا واہنی کے کارکنوں نے اے ایم یو کے بابا سید گیٹ پر جناح کا پتلا پھونکا،جس کے بعد ہندو یوا واہنی طلبا تنظیموں اور اے ایم یو طلبا کے درمیان مار پیٹ کی نوبت آ گئی۔

بتادیں کہ دونوں جانب سے لاٹھی ۔ٹھنڈے نکل آئے۔ موقع پر پہنچی پولیس پہنچی پولیس کو طلبا کی بھیڑ کو تتر ۔بتر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے چھوڑنے پڑے۔

علی گڑھ کے ڈی ایم چندر بھوشن نے بتایا کی اے ایم یو طلبا کی بھیڑ کو قابو کرنے کیلئے پولیس اپنی طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس کارروائی میں دو جوان زخمی ہو گئے۔فی الحال تناؤ کو دیکھتے ہوئے موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

دراصل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبا یونین دفتر پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تصویر سے ہنگامہ مچ گیا ہے۔ محمد علی جناح کی تصویر کا ہندو وادی طلبا تنظیم نے سخت مخالفت کی ۔یونیورسٹی کے سکیورٹی فورسز کا الزام ہے کہ واہنی کے کچھ کارکنان کے پاس پستول اور ڈنڈے تھے۔حالانکہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

سی ایم او جواہر لال نہرو میڈیکل کے مطابق، لاٹھی چارج میں 28 طلبا زخمی ہوئے ہیں جن کا علاج چل رہا ہے۔

طلبہ یونین نے کہا کہ اگر شام تک پتلا پھنوکنے والوں کی گرفتاری نہیں ہوئی تو اے ایم یو کے طلبا جیل بھر تحریک کریں گے۔

ایس پی سٹی اتل شری واستو نے بتایا کی ہندوووادی طلبا تنظیم اچانک بابا سید گیٹ پر پہنچ گئے تھی۔ اور انہوں نے جناح کا پتلا پھونکا۔حالانکہ یہاں کوئی جھگڑا نہیں ہوا اور حالات اب قابو میں ہیں۔

اتل سری واستو نے کہا یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ واہنی کے کارکن کیسے دروازے تک پہنچے ۔انہوںنے بتایا کہ کیمپس کے اندر اور باہر سخت سکیورٹی کر دیگئی ہے۔حالات پوری طرح ٹھیک ہونے تک گشت جاری رہے گی۔کیمپس میں ریپڈ ایکشن فورس تعینات کر دی گئی ہے۔

بتادیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ یونین دفتر میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تصویر کو لے سیاست چرم پر ہے۔ایک طرف بی جے پی ستیش گوتم نے معاملے میں وی سی کو خط لکھ کر جواب طلب کیا ہے۔وہیں خود بی جے پی کے ہی وزیر سوامی پرساد موریہ تصویر لگانے کو صحیح ٹھہرا رہے ہیں۔تو ادھر یوگی حکومت کے ایک دیگر کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر نے سوامی پرساد موریہ کو "جناح کا رشتہ دار”کہہ دیا۔بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ہر ناتھ سنگھ یادو نے سوامی پرساد موریہ کو فورا پارٹی سے باہر نکالنے کی مانگ کی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!