Published From Aurangabad & Buldhana

ایودھیا فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل کرنے والوں پر غداری وطن کا مقدمہ درج ہونا چاہیے: مہنت گری

الہ آباد: بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازع کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے نظر ثانی کی عرضی داخل کرنے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو مندر کی تعمیر میں روکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔

مہنت نریندر گری نے منگل کو یہاں کہا کہ عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں کے خلاف غداری وطن کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ عدالت کے فیصلے کو مسلمانوں کی اکثریت نے بھی قبول کیا ہے اب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس معاملے میں روکاوٹ پیدا نہیں کرنی چاہیے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر و رکن پارلیمان اسد الدین اویسی کی تنقید کرتے ہوئے مہنت گری نے اویسی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سرگرمیوں کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ مہنت گری کے مطابق جانچ کے بعد یہ بات سامنے آجائے گی کہ یہ لوگ کس کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔ نریندر گری نے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایودھیا فیصلے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک میں امن وامان قائم ہے۔ ملک کے مسلمانوں کا آئین اور عدلیہ پر پورا یقین ہے۔ جن لوگوں کو عدلیہ اور آئین پر یقین نہیں ہے وہی لوگ فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل بات کر رہے ہیں۔ مہنت گری نے اقبال انصاری اور یو پی سنی سنٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین زفر فاروق کے عدالت عظمی کے فیصلے پر کسی بھی صورت میں نظر ثانی کی اپیل داخل نہ کرنے کے فیصلے کا استقبال کیا۔

یو این آئی

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!