Published From Aurangabad & Buldhana

این آر سی ڈرافٹ میں متعدد سابق فوجی افسران کے نام غائب، پوچھا- ملک کی خدمت کا یہی پھل ملے گا؟

آسام میں قومی شہریت رجسٹر (این آر سي) کی ڈرافٹ سے جن سابق فوجی افسران کو باہر رکھا گیا ہے، وہ بے حد ناراض ہیں۔

آسام میں قومی شہریت رجسٹر (این آر سي) کی ڈرافٹ سے جن سابق فوجی افسران کو باہر رکھا گیا ہے، وہ بے حد ناراض ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ یہ ڈرافٹ ’گمراہ کن اور جارحانہ‘ ہے۔ فوجی افسران نے اس ڈرافٹ کی سخت مخالفت ظاہر کی ہے۔

آسام میں این آر سی ڈرافٹ کے مطابق، ان 40 لاکھ لوگوں کی ہندوستانی شہریت پر تلوار لٹکی ہے جو ضروری دستاویزنہیں دے پائے ہیں۔ 31 جولائی کو سماعت کے درمیان سپریم کورٹ نے مانا تھا کہ جن لوگوں کا نام اس فہرست میں نہیں ہے ، انہیں پھر سے منصفانہ طریقہ سے درخواست دینے کا موقع ملنا چاہئے۔ قابل غور ہے کہ اس معاملہ میں آئندہ سماعت 28 اگست کو ہے۔

کامروپ ضلع کے کولوہیکاس گاوں کے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کیپٹن محمد ثناالله کا نام این آر سی کی ڈرافٹ میں ہولڈ پر رکھ دیا گیا ہے۔ این آر سی کے افسران کے مطابق، ان کے خلاف بوکو فورنرس ٹریبیونل میں ایک کیس پینڈنگ ہے۔ تاہم ثناالله کے مطابق این آر سی نے جس کیس نمبر کا ذکر کیا ہے اصل میں وہ ان کے خلاف ہے ہی نہیں، بلکہ وہ کیس کسی اور کے خلاف ہے۔

نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کیپٹن محمد ثناالله نے کہا کہ وہ اس شخص کے بارے میں نہیں جانتے ہیں جس کے نام پر یہ معاملہ درج ہے۔ انہوں نے کہا’’مجھے بتایا گیا کہ فارنرس ٹریبیونل میں میرے خلاف ایک پینڈنگ کیس ہے۔ میں نے بارڈر پولیس سپرنٹنڈنٹ سے جب اس کیس کے بارے میں پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ کیس اگچیا گاوں کے محمد شمس الحق کے نام ہے۔ 51 سالہ ریٹائرڈ فوجی نے 30 سال تک ملک کی خدمت کی۔ جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے تنگدھر علاقہ میں 2015 سے 2017 تک انہوں نے تین انسرجینسی آپریشن میں حصہ لیا تھا۔علاوہ ازیں انہوں نے 2007 سے 2010 کے درمیان منیپور کے امفال میں بھی انسرجینسی آپریشن کو انجام دیا۔

ثنا اللہ کا کہنا ہے ’’یہ ایک طرح سے اذیت ہے۔ میرے خاندان میں کسی کا بھی این آر سی کی فہرست میں نام نہیں ہے۔ فہرست کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ اتنے سالوں سے ملک کی خدمت کرنے بعد مجھے یہی ملا؟‘‘۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!