Published From Aurangabad & Buldhana

ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا ۹ واں دن

حکومت کی تمام کوششیں ناکام ، پولس کاروائی دوران ۵۰ جاں بحق ، درجنوں زخمی

تہران :ایران میں ریاستی جبر کے باوجود آج جمعہ کو سماجی، سیاسی اور معاشی نانصافیوں کے خلاف عوامی انتفاضہ جاری رہی۔ ایران میں حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا آج ۹؍ واں دن تھا۔اطلاعات کے مطابق ایران میں انتفاضہ کارکن نے جمعہ الغضب برائے شہداء 145 منانے کا اعلان کیا۔ مظاہرین نے ایرانی پولیس کے ہاتھوں ۲۲ مظاہرین سمیت ۵۰ افراد کے قتل کی شدید مذمت کی۔سوشل میڈیا پر کارکنوں نے نماز جمعہ کے بعد ملک گیر احتجاج کی اپیل کی گئی تھی۔ دوسری جانب حکومت نے مذہبی مدارس( حوزات دینیہ)کے طلباء، بسیج ملیشیا کے عناصر اور پاسداران انقلاب کو شہریوں کو مظاہروں میں شرکت سے روکنے کے لیے میدان میں اتارا دیا۔ایران کے ضلع آذر بائیجان کے مرکزی شہر تبریز میں 146ٹریکٹرسازی گراؤنڈ145 میں ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرے کا امکان ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق تبریز میں احتجاجی جلوس نکالنے سے روکنے کے لیے حکومت نے شہر کو دوسرے علاقوں اردبیل، ارومیہ اور خوی سے ملانے والے تمام راستے بند کر دئیے ہیں۔ پولیس اور فوج نے جگہ جگہ ناکے لگا کر تلاشی کا عمل تیز کر دیا ہے۔ادھر دوسری جانب سوشل میڈیا پر ملک میں نو روز سے جاری عوامی انتفاضہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہروں میں حصہ لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ مقامی اطلاعات کے مطابق گذشتہ شب ایرانی پولیس نے تبریز شہر کو چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا تھا۔ادھرایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں۳۰۰۰ مظاہرین کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ انٹیلی جنس حکام نے مظاہرے منظم کرنے کے الزام میں ۴۳ طلباء کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ایرانی صدر کے مشیر حسام الدین آشنا نے ایک ٹویٹ میں پاسداران کے سربراہ محمد علی جعفری کے اس بیان پر تنقید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں جاری احتجاج ختم کردیا گیا ہے۔ادھرایران کے اصلاح پسند اپوزیشن رہ نما مہدی کروبی کی جماعت 146اعتماد ملی145 نے پرامن مظاہرین کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ایک بیان میں اعتماد ملی کا کہنا ہے کہ ملک میں اپنے جائز مطالبات کے لیے سڑکوں پر آنے والے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت اوراقتدار پر قابض ٹولے پر عاید ہوتی ہے۔ایک بیان میں مہدی کروبی کی جماعت کا کہنا ہے کہ حکومت کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مظاہرین کوطاقت سے کچلنے کے بجائے ان سے مذاکرات کرے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!