Published From Aurangabad & Buldhana

اگستا ویسٹ لینڈ: مودی حکومت کی سازش منکشف، گرفتار شخص پر بیان بدلنے کا ڈالا دباؤ

اگستا ویسٹ لینڈ کیس میں یو اے ای میں گرفتار ایک بچولیے کی وکیل اور اس کی بہن نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستانی ایجنسیاں مشیل کے اوپر یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی کا نام لینے کا دباؤ ڈال رہی ہیں۔

اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر معاہدہ میں مبینہ رشوت خوری میں بچولیےکا کردار نبھانے والےکرشچن مشیل کی وکیل روز میری پیٹریزی اور بہن ساشا اوزیمین نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستانی جانچ ایجنسیوں کے افسران مشیل پر جھوٹے قبول نامے پر دستخط کے لیے لگاتار دباؤ بنا رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق مشیل کی وکیل اور بہن نے دعویٰ کیا ہے کہ مشیل پر یہ قبول کرنے کے لیے ہندوستانی افسران دباؤ ڈال رہے ہیں کہ جس وقت یہ ہیلی کاپٹر معاہدہ ہوا تھا اس وقت اس کی یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی سے نجی جان پہچان تھی۔

اس کے بدلے مشیل کو چھوڑ دیے جانے کا لالچ دیا گیا۔ مشیل کی وکیل پیٹریزی نے ملان اور اس کی بہن اوزیمین نے انگلینڈ سے ایک نیوز چینل کو دیے انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا ہے۔خبروں کے مطابق برطانوی شہری کرشچن مشیل کو ہندوستانی ایجنسیوں نے دوبئی میں دو دن پہلے گرفتار کر لیا ہے۔ حالانکہ اس کی بہن کا الزام ہے کہ مشیل کو تقریباً 40 دن پہلے ہی دوبئی میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ مشیل پر اگستا ویسٹ لینڈ معاہدہ میں 6 کروڑ یورو کی دلالی میں اہم کردار نبھانے کا الزام ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے یو اے ای کی ایک عدالت میں داخل فرد جرم میں کرشچن مشیل کا نام بھی شامل ہے۔

اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد ہندوستان میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس نے آج کے دن کو جمہوریت کے لیے یومِ سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج سازش سے متعلق ہوئے انکشاف کے بعد ملک کے لوگ کبھی بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو معاف نہیں کریں گے۔ کانگریس میڈیا سیل کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ آج ہوئے سنسنی خیز انکشاف نے سیاسی بدلے کی آگ میں جل رہے وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ اگستا ویسٹ لینڈ معاملے میں کانگریس قیادت کے خلاف کی جا رہی منصوبہ بند سازش کی تہیں کھول کر رکھ دی ہیں۔ سرجے والا نے الزام عائد کیا کہ اپنے سیاہ کارناموں اور ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مودی جی نے اپوزیشن لیڈروں اور کانگریس قیادت پر کیچڑ اچھالنے کی جو گھناؤنی سازش تیار کی تھی، وہ آج انہی پر جا گرا ہے۔ یہ پوری سازش اب ملک کے سامنے ظاہر ہے۔

رندیپ سرجے والا نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’حکومت ہند کی کٹھ پتلی ایجنسیاں سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ایک طرف تو دوبئی کی عدالت میں کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں، وہیں دوسری طرف کرشچن مشیل کا غلط استعمال کر کے اپوزیشن لیڈروں کے خلاف غلط سازش کر رہی ہیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعظم اور حکومت کی اپوزیشن لیڈروں کے خلاف ایسی جھوٹی سازش منظر عام پر آئی ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے الزام عائد کیا کہ اس انکشاف نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مودی حکومت سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر سیاسی مخالفین سے بدلہ لینے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ بی جے پی کا چال، چہرہ اور کردار آج ملک اور دنیا کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!