Published From Aurangabad & Buldhana

اچھے دن کے نام پر آئی حکومت مندر و مورتی کی بحث میں مصروف: چدمبرم

کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ نوٹ بندی پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے لیکن مودی حکومت اس کے کامیاب ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

نوٹ بندی کے دو سال مکمل ہونے کے بعد کانگریس مودی حکومت پر زبردست طریقے سے حملہ آور نظر آ رہی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈران پی چدمبرم اور آنند شرما نے آج الگ الگ پریس کانفرنس کرنوٹ بندی سے معیشت پر پڑے منفی اثرات کا تذکرہ تو کیا ہی، کئی مقامات پر کانگریس کارکنان نے مظاہرہ بھی کیا۔ سابق مرکزی وزیر مالیات پی چدمبرم نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت اچھا دن لانے سے متعلق کیا گیا وعدہ تو بھول گئی اور اب مندر و مورتی کی بحث میں مصروف نظر آ رہی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اب ترقی، ملازمت، سرمایہ کاری، زیادہ آمدنی یا گروتھ کا کہیں تذکرہ نہیں۔ آج کل ہم جو بھی تذکرہ سنتے ہیں وہ صرف ہندوتوا کا ایجنڈا ہے۔‘‘

پریس کانفرنس کے دوران چدمبرم نے نوٹ بندی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ تو جعلی نوٹ کا مسئلہ حل ہوا ہے اور نہ ہی کالے دھن پر قابو پایا جا سکا۔ انھوں نے کہا کہ جعلی نوٹ بنانے والوں نے 2000 اور 500 روپے کے جعلی نوٹ بھی نکال لیے اور حقیقت تو یہ ہے کہ نوٹ بندی کے وقت بے کار قرار دیے گئے سبھی 99.3 فیصد نوٹ واپس آر بی آئی کے پاس آ گئے۔ چدمبرم نے نوٹ بندی کو حکومت کی جانب سے لانچ کی گئی ’منی لانڈرنگ اسکیم‘ تک قرار دے دیا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے بھی نوٹ بندی کے دو سال مکمل ہونے پر میڈیا سے خطاب کیا۔ انھوں نے دہلی کے پارٹی صدر دفتر میں پریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’8 دسمبر 2016 کو مودی حکومت کے ذریعہ نوٹ بندی کا فیصلہ غلط تھا۔ نوٹ بندی کے بعد ملک کو جن مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا اس کے لیے صرف پی ایم مودی ذمہ دار ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ نوٹ بندی کی برسی ہزاروں غریبوں اور کسانوں کے لیے ماتم کے دن سے کم نہیں۔ آنند شرما نے مزید کہا کہ ’’نوٹ بندی کی وجہ سے ہزاروں غریبوں کی جان چلی گئی۔ بیمار لوگوں نے بھی علاج نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ دیا۔ اس نوٹ بندی کی وجہ سے ہزاروں بیٹیوں کی شادیاں بھی ٹوٹ گئیں اور ہزاروں کی تعداد میں ملازمتیں بھی چلی گئیں۔‘‘

آنند شرما نے اس موقع پر نوٹ بندی کے مضر اثرات کے باوجود مودی حکومت کے ذریعہ اس کی تعریف کیے جانے پر حیرانی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’نوٹ بندی کی ناکامی کے بعد مودی حکومت اس کے کامیاب ہونے کا دعویٰ کرتی رہی۔ آر بی آئی نے کہا کہ 99.3 فیصد نوٹ بندی کے نوٹ بینک میں واپس آ گئے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ آخر کالا دھن کہاں گیا جس کے لیے نوٹ بندی کی گئی تھی۔‘‘

بہر حال، نوٹ بندی کے دو سال مکمل ہونے کے بعد کانگریس کارکنان نے گوہاٹی میں پرزور مظاہرہ کیا۔ انھوں نے سڑک پر اتر کر نہ صرف مودی مخالف نعرے لگائے بلکہ 8 نومبر کو یومِ سیاہ بھی قرار دیا۔ کانگریس کارکنان ہزاروں کی تعداد میں بینر اور پلے کارڈس لے کر سڑکوں پر نکلے اور نوٹ بندی کے بعد معاشی طور پر ہوئی بدحالی پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!