Published From Aurangabad & Buldhana

اپنے خلاف کیس میں کوئی کیسے ہوسکتا ہے جج؟ جسٹس چملیشور نے کہا "شاید اب بدل گیا ہے قانون”۔

نئی دہلی: چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف مواخذہ تجویز پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس چملیشور نے پیر کو کہا کہ اپنے خلاف دائر مقدمے میں کوئی بھی خود جج نہیں ہو، یہ قانون حال کے کچھ ماہ میں شاید تبدیل ہوگئے ہیں۔

آپ کو بتادیں کہ چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف مواخذہ کی تجویز کے لئے کانگریس نے سپریم کورٹ میں عرضی لگائی ہے۔ جسٹس جے چملیشور کی عدالت میں پیر کو یہ عرضی داخل کی گئی۔ جسٹس چملیشور نے عرضی گزار سے کہا کہ معاملے کو سنا جائے یا نہیں، اس پر کورٹ منگل کو غور کرے گا۔

چیف جسٹس کے خلاف جسٹس چملیشور نے ہی محاذ کھولا تھا۔ ایسے میں اب یہ معاملہ مزید دلچسپ ہوگیا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ کانگریس سمیت 7 سیاسی جماعتیں چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف راجیہ سبھا میں مواخذہ لے کر آئی تھیں، جسے راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو نے خارج کردیا تھا۔ ایسے میں کپل سبل اور پرشانت بھوشن چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف مواخذہ کی تجویز کی منظوری کے لئے سپریم کورٹ میں جسٹس چملیشور کے پاس پہنچے ہیں۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سبل نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف لائے گئے مواخذہ کی تجویز کو خارج کرنے کا نائب صدر جمہوریہ کا فیصلہ منطقی نہیں ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!