Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: 100 کروڑ : راستوں کے چاروں ٹینڈرس 10 منٹ میں منظور

*ہائیکورٹ میں سماعت اور بلیک لسٹ ایجنسیوں پر خلاصہ کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرمن نے منظور کی قراردادیں *50 کروڑ ڈیفرڈ پیمنٹ راستوں کے ٹینڈر آٹھ دنوں میں جاری کرنے کا بھی دیا چیئرمن ویدیہ نے حکم

اورنگ آباد: 2 نومبر (سینئر رپورٹر)حکومت مہاراشٹر کے ذریعہ فراہم کردہ 100 کروڑ کی لاگت سے تعمیر کئے جانے والے راستوں کی وہائٹ ٹاپنگ کاموں کے چاروں ٹینڈرس کو آج شام اسٹینڈنگ کمیٹی نے چند منٹوں میں ہی منظوری دے دی۔ گوکہ کارپوریٹر گجانن باروال، راکھی دیسرڈا، شلپا واڑکر اور سواتی ناگرے اور نرگس شیخ سلیم نے جی این آئی اور مسقط کنسٹرکشن کے بلیک لسٹ ہونے کے معاملہ پر بحث کی ۔ ساتھ ہی کانٹریکٹر ایجنسیوں کے ذریعہ ابتدائی ٹینڈر میں بلو ریٹ دینے کے بعد 22 فیصد ابو (زائد ) ریٹ دینے کا مسئلہ بھی اٹھایا ۔ لیکن اس سلسلہ میں ایڈیشنل کمشنر ڈی پی کلکرنی نے سڈکو اور پیٹھن اتھارٹی کے ذریعہ جی این آئی اور مسقط کنسٹرکشن کو بلیک لسٹ نہ کئے جانے کا تحریری تصدیق نامہ موصول ہونے کا خلاصہ کیا ۔ اس لئے معترض تمام کارپوریٹرس نے بھی اپنا اختلاف ختم کر دیا ۔ اتفاق رائے ہونے کے بعد چیئرمن راجو ویدیہ نے راستوں کے مذکورہ P1,P2,P3,P4 چاروں ٹینڈرس کی قراردادوں کو منظوری دے دی ۔ اس کے ساتھ ہی چیئرمن ویدیہ نے ایڈیشنل کمشنر ڈی پی کلکرنی کو حکم دیا کہ حکومت کے 100 کروڑ فنڈ سے کچھ راستوں کی تعمیر کی جا رہی ہے ۔

لیکن شہر کے تمام راستوں کی تعمیر اس فنڈ سے ممکن نہ ہونے کی وجہ سے میونسپل انتظامیہ نے 50 کروڑ ڈیفرڈ پیمنٹ پر راستوں کی تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنرل باڈی بھی ان کاموں کو منظوری دے چکی ہے ۔ 50 کروڑ ڈیفرڈ پیمنٹ راستوں کے کام بھی اتنے ہی اہم اور ضروری ہیں جتنے حکومت کے 100 کروڑ سے تعمیر کئے جائیں گے۔ لہذا ڈیفرڈ پیمنٹ راستوں کے متعلق تفصیلات واضح کریں۔ ڈی پی کلکرنی نے اس ضمن میں خلاصہ کیا کہ ڈیفرڈ پیمنٹ پر راستوں کی تعمیر کے لئے بالترتیب 25 لاکھ کے حساب سے D1 اور D2 دو ٹینڈر جاری کئے گئے تھے۔ لیکن انہیں کانٹریکٹرس نے رسپانس نہیں دیا ۔ کلکرنی نے بتایا D2 کاموں کے لئے تین مرتبہ ٹینڈر ری کال کئے گئے اس کے باوجود کوئی ٹینڈر داخل نہیں کیا گیا ۔ لہذا اب ایک مرتبہ پھر ری ٹینڈرنگ کی جارہی ہے ۔

چیئرمن ویدیہ نے حکم دیا کہ آئندہ آٹھ دنوں کے دوران ڈیفرڈ پیمنٹ راستوں کے لئے ٹینڈر جاری کردیں ۔ قبل ازیں آج سو کروڑ راستوں کی تعمیر سے متعلق ہائی کورٹ میں آج سماعت کے متعلق بھی ایڈیشنل کمشنر کلکرنی نے تفصیلات بتلائیں کہ تین سال قبل راستوں کے گڑھوں اور راستوں کی تعمیر کے متعلق ہائی کورٹ میں پی آئی ایل (مفاد عامہ پٹیشن) دائر ہوئی تھی ۔ اسی مقدمہ میں مذکورہ 100 کروڑ حکومت کے فنڈ سے تعمیر ہونے والے راستوں کا بھی اضافہ کیا گیا تھا۔ پٹشنر نے میونسپل کارپوریشن کو نااہل قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ کارپوریشن ان کاموں کے لئے اہل نہیں رہی، راستوں کی تعمیر نہیں کر سکتی۔ لہذا راستوں کے کام کارپوریشن کے بجائے پی ڈبلیو ڈی کی معرفت کروائے جائیں ۔ اسی مناسبت سے عدالت نے میونسپل کارپوریشن کو آج 2 نومبر تک حتمی فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ آج بھی اگر کارپوریشن فیصلہ نہ کرے تو راستوں کے کام پی ڈبلیو ڈی کو سونپنے کا عدالت نے انتباہ دیا تھا۔ لیکن آج ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت کو مطلع کیا گیا کہ راستوں کے کام کے ٹینڈر آج منعقدہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں منظوری کے لئے پیش کئے گئے ہیں ۔ اس پر عدالت نے حکم دیا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی آج ہی فیصلہ کرے ۔

راستوں کے مقدمہ میں مجلس بھی بنی فریق

شہر کے اہم راستوں کی تعمیر کے لئے کارپوریشن کے پاس فنڈ نہ ہونے اور مالی بحران کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکومت مہا راشٹر نے کارپوریشن کو 100 کروڑ فنڈ مہیا کروایا ہے ۔ لیکن راستوں کے ان کا موں میں میونسپل عہدیداران قانون شکنی اور من مانی کر رہے ہیں ۔موٹی رقومات لے کر بلیک لسٹ کمپنیوں کو کروڑوں کے کاموں کے کانٹریکٹ دے رہے ہیں ، لہذا ان کاموں کی تحقیقات کروائی جائے اور میونسپل کارپوریشن کے بجائے پی ڈ بلیو ڈی کی معرفت راستوں کے تعمیری کام کروائے جائیں، اس مطالبہ کے تحت مجلس کی جانب سے گروپ لیڈر ناصر صدیقی اور مجوزہ کوآپٹ ممبر ابوالحسن ہاشمی ہائی کورٹ اورنگ آباد بنچ میں زیر سماعت اس مقدمہ میں انٹروین ہو کر فریق بن گئے ہیں ۔ ناصر صدیقی نے اطلاع دی کہ متعلقہ افسران و عہدیداران کی مفاد پرستی کے خلاف ہم عدالت سے رجوع ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا اس سے پہلے بھی چند راستوں کی تعمیر کے لئے حکومت نے 4 کروڑ33 لاکھ مالی امداد فراہم کی تھی۔ لیکن اس فنڈ سے راستوں کے کاموں میں کتنے بڑے پیمانہ پر بدعنوانیاں ہوئیں یہ سبھی جانتے ہیں ۔ اس معاملہ میں ہائی کورٹ میں ہی ایک مقدمہ زیر سماعت ہے ۔ لیکن عہدیداران و کمشنر ہمارے اعتراضات و شکایات کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں اس لئے ہمیں عدالت سے رجوع ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!