Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: ‎بناءاِجازت منعقدہ  ‎کیمپ میں داخل کئے گئے فارم منسوخ ہوسکتے ہیں 

‎مختلف علاقوں میں منعقدہ ووٹرس رجسٹریشن کیمپ کےلئے اِلیکشن اِنتظامیہ کی منظوری لازِمی ، ‎ووٹرس رجسٹریشن کی مہم کےلئے زعفرانی تنظیموں کے ذِمّہ داران سرگرم‘ سیکولر جماعتیں و تنظیمیں خواب خرگوش میں

‎اَورنگ آباد: آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیشِ نظر اِن دنوں شہر و ضلع سطح پر ووٹرس کی نئی فہرستیں ترتیب دینے کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ اس کام میں ضلع انتظامیہ کے ساتھ ہی ساتھ سیاسی سماجی تنظیمیں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں اور شہر و ضلع بھر میں مختلف پارٹیوں و تنظیموں کے ووٹرس رجسٹریشن کیمپ منعقد ہورہے ہیں۔ ضلع انتظامیہ کے الیکشن شعبے کی جانب سے ملی اطلاع کے مطابق سیاسی سماجی تنظیموں کی جانب سے منعقد ہونے والے رجسٹریشن کیمپ کےلئے متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے‘ لیکن مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اکثر تنظیمیں و سوشل ورکرس کی جانب سے ووٹرس رجسٹریشن کیمپوں کےلئے انتظامیہ سے منظوری نہیں لی جارہی ہے اور بناءاجازت ہی رجسٹریشن کیمپ لگوائے جارہے ہیں‘ جس کے بعد رائے دہندگان کے حاصل شدہ رجسٹریشن فارم ضلع انتظامیہ کے الیکشن ڈپارٹمنٹ میں جمع کیے جارہے ہیں‘ جس کی کوئی قانونی حیثیت نہےں ہے اور ان رجسٹریشن فارمس کو انتظامیہ کی جانب سے ردّ کر دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ آئندہ سال منعقدہ ہونے والے لوک سبھا انتخابات کےلئے تمام سیاسی پارٹیوں نے کمر کس لی ہیں اور سیاسی پارٹیوں کے عہدیداران سے لیکر اراکین و کارکنان تک سبھی اس کےلئے صبح و شام کوششوں میں مصروف ہیں۔ معتبر ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق زعفرانی پارٹیوں بالخصوص سنگھی تنظیموں نے اس الیکشن کےلئے اپنے تمام کیڈرس کو متحرک کردیا ہے اور ان کیڈرس کو باضابطہ اُجرت دیکر مختلف اُمور سونپ دئیے گئے ہیں‘ موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ تمام کیڈرس انتخابات کے دِن شام پانچ بجے تک اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں گے اور اس کےلئے متعینہ اُجرت لیکر زعفرانی پارٹیوں کے اُمیدوار کو فتح دلانے کےلئے گھر گھر جاکر کام کریں گے۔

وہیں دوسری جانب ہر بار کی طرح مسلم سیاسی جماعتوں‘ تنظیموں میں ایک طرح کی بے حسی چھائی ہوئی ہے‘ کیونکہ دیکھنے میں یہ آیا کہ مسلم اکثریتی محلوں میں یا تو ووٹرس رجسٹریشن کےلئے منعقد ہونے والے کیمپوں کی تعداد ہی بہت کم ہے یا پھر رجسٹریشن کےلئے لگائے جارہے کیمپوں کےلئے انتظامیہ سے منظوری ہی حاصل نہیں کی جارہی ہے۔ جس کے سبب نئے ووٹرس رجسٹریشن سے محروم رہ کر آئندہ لوک سبھا انتخابات میں رائے دہی سے محروم ہوسکتے ہیں۔ حالانکہ لوک سبھا انتخابات کےلئے چار تا پانچ ماہ کا وقت ہے‘ لیکن سیکولر پارٹیاں و جماعتیں یا تو تشہیری جلسے منعقد کرنے میں مصروف ہیں یا پھر کسی طرح کے ایجی ٹیشن کرکے انتخابات کی تیاری کی جارہی ہے‘ جبکہ زعفرانی جماعتیں و سنگھی تنظیمیں فی الوقت ہندو ووٹرس کے زیادہ سے زیادہ رجسٹریشن پر ہی پورا زور صرف کررہی ہیں اور ضلع بھر میں اب تک کئی ہزار اکثریتی طبقے کے ووٹرس کے ناموں کا اندراج کروایا جاچکا ہے۔

اس سلسلے میں سیکولر سیاسی سماجی جماعتوں‘ ملّی تنظیموں و ذمہ داران کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ ورنہ بہت دیر ہوجائےگی اور سوائے ہاتھ ملتے رہنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

عیاں رہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ووٹرس رجسٹریشن کےلئے 31 اکتوبر 2018 حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے‘ جس کےلئے مکمل تین ہفتے باقی ہیں‘ لہٰذا اس دوران انتظامیہ سے منظوری حاصل کرکے زیادہ سے زیادہ رجسٹریشن کیمپ منعقد کروانا انتہائی ضروری ہے۔ اس کام مےں ائمہ مساجد و ملّی تنظیموں کے ذمہ داران بھی قوم میں بیداری و شعور پیدا کرنے کےلئے بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ 

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!