Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: ۹؍اگست کو بڑی سطح پر مراٹھا احتجاج، اورنگ آباد، کولہاپور اور ناندیڑ کو ملے گی اضافی سیکیوریٹی

ریاست میں 19؍جولائی سے 2؍اگست کے درمیان احتجاج کی وجہ سے 2345مقدمات درج ہوچکے ہیں۔ ان میں سے 109مقدمات کولہاپوراور ستارا میں درج ہوچکے ہیں جبکہ 72مقدمات اورنگ آباد اور ناندیڑ میں درج ہوچکے ہیں۔

اورنگ آباد:۔ مراٹھا تنظیموں کی جانب سے تعلیم اور سرکاری نوکریوں میں مراٹھا ریزرویشن کے مطالبہ کو لیکر9؍ اگست کو احتجاج کے اعلان کے بعد سے انتظامیہ نے اورنگ آباد، کولہا پور اور ناندیڑ ریجن جیسے علاقوں میں جہاں سابق میں احتجاج پر تشدد ہوگیا تھا اضافی سیکیوریٹی مہیاء کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے مرکز ی حکومت کو مرکزی فورس کی مدد کے لئے لکھا ہے تاکہ امن و امان قائم رکھا جاسکے۔

واضح ہوکہ 19؍جولائی سے 2؍اگست کے درمیان مراٹھا احتجاج سے متعلق 2,345مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔ان میں سے 109مقدمات کولہاپور اور سانگلی اضلاع میں اور 72مقدمات اورنگ آباد اور ناندیڑ اضلاع میں درج کیے گئے ہیں۔
ڈی جی پی آفس کے اعلیٰ افسر نے اس موقع پر کہا کہ ’’ یہ اضلاع ریاست میں سب سے زیادہ حساس پائے گئے ہیں اور یہاں پر پرتشدد احتجاج ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں حفاظت کے لئے اضافی سیکیوریٹی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہم نے مرکز سے اضافی سیکیوریٹی کا مطالبہ بھی کیا ہے جنہیں حساس علاقوں میں ریاستی فورس کے ساتھ تعینات کیا جائیگا۔ علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات کو بند کرنے نہ کرنے کا فیصلہ ہم نے SPپر چھوڑا ہے۔

انتظامیہ نے کہا کہ ’’ ہم پوری ریاست میں انٹرنیٹ خدمات کو بند نہیں کرسکتے۔ اس سے پوری ریاست میں خاص طور سے ممبئی میں معاملات خراب ہونگے ۔ لیکن وہ علاقے جہاں احتجاج پر تشدد ہونے لگے اور معاملات کنٹرول سے باہر ہوجائیں اور ایسا محسوس ہوکہ انٹرنیٹ کی وجہ سے حالات مزید خراب ہونگے تو مقامی SPانٹرنیٹ خدمات کو معطل کرسکتے ہیں‘‘۔ سابقہ ہفتہ اورنگ آباد اور نئی ممبئی میں احتجاج پر تشدد ہونے پر انٹرنیٹ خدمات بند کی گئی تھیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!