Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد : ہیرا گولڈ کی دھوکہ دہی سے شہر کے ہزاروں مسلمان پریشان

مذہب کے نام پر مسلمانوں کو معاشی طور پر کمزور کیا گیا‘سرمایہ کاری سے پہلے حقائق معلوم کریں : شکیل احمد

اورنگ آباد : حلال سرمایہ کاری کے نام پر گزشتہ کئی سالوں سے مختلف شعبہ جات میں کاروبار کرکے عوام کو ہر ماہ 30تا 35فیصد کے حساب سے ہر ماہ منافع دینے والی ’’ہیراگروپ آف کمپنیز‘‘ کی چیئرپرسن نوہیرا شیخ کو گزشتہ روز حیدرآباد پولس نے دھوکہ دہی کے مختلف دفعات کے تحت گرفتار کرلیا۔ان کی گرفتاری کے بعد ہندوستان کے علاوہ خلیجی ممالک سے بھی بڑی تعداد میں مسلمان پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔

اس کمپنی میں دولت مند افراد کے علاوہ کئی ضرورت مندوں نے بھی بڑی تعداد میں اپنی زندگی بھر کی کمائی کی سرمایہ کاری کی تھی، جن میں پینشن حاصل کرنے والے افراد، کئی بیوائیں جنہوں نے اپنی بچیوں کی شادی کی غرض ، کچھ افراد نے اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے ہیرا گولڈ میں سرمایہ کاری (Invest)کررکھی تھی، کمپنی نے عوام میں اور باالخصوص مسلمانوں میں اعتماد حاصل کرنے کی غرض سے اپنے ابتدائی سرمایہ کاروں (Investors)کو وقت پر منافع کے نام پرپرکشش رقم بھی ہر ماہ ادا کرتی رہی، اور یہی انویسٹرس کمپنی کی پبلسٹی کا اہم ذریعہ بھی بنیں، مختلف افراد نے ایک دوسرے سے مشورہ کرکے یا ہر ماہ بنا محنت کیے منافع کی لالچ میں لاکھوں روپیے انویسٹ کردیے،اس سلسلے میں روز نامہ ایشیا ایکسپریس نے کئی ماہرِ معاشیات سے بات کی تو تقریباً تمام نے اسے ناممکن بتایا کہ دنیا میں کوئی بھی بزنس ایسا نہیں ہیکہ ہر ماہ کمپنی 50%سے زائد منافع کمائیں اور آپکو 35فیصد ادا کریں۔ اس سلسلے میں روزنامہ ایشیا ایکسپریس سے بات چیت میں بی ایم سی بینک کے مینجر شکیل احمد نے بتایا کہ میرے نزدیک یہ مسلمانوں کو مذہب کے نام پر استعمال کرکے اُنہیں معاشی طور پر کمزور کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 100؍سالوں میں ایسی کوئی کمپنی مارکیٹ میں اپنی مستقل پوزیشن نہیں بنا پائی جس نے صرف فائدہ کی بات کی۔اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ دنیا کا کوئی ایسا کاروبار (بزنس )بتایا جائیں جس میں مسلسل منافع ہی آرہا ہوں ، کبھی نہ نقصان ہوا ہو،ہیرا گولڈ کے تعلق سے اُنہوں نے بتایا کہ یہ کسی دھوکہ سے کم نہیں ہے، شکیل احمد نے بتایا کہ ہیرا گولڈ کا رجسٹریشن نہ اسٹاک ایکسچینج میں ہے اور نہ ہی ٹریڈ کامرس میں اس کمپنی کا کہیں کوئی نام ہے، پھر کس بنیا پر اور کہاں یہ بزنس کرکے ہر ماہ منافع دیتی تھی یہ سمجھ کے باہر ہے۔اُنہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ نفع اور نقصان کی نیت کے ساتھ کسی کے ساتھ کاروبار کریں، اور کسی ایسی ملٹی نیشنل کمپنی میں سرمایہ کاری (Invest)کرنے سے پہلے اُس کمپنی کی جانچ اچھے سے کرلیں اُسکے بعد سرمایہ کاری کریں۔

جن افراد کے لاکھوں رویپے اس معاملہ میں پھنس گئے ہے اُنکے واپس ملنے سے متعلق اُنہوں نے بتایا کہ فی الحال یہ ہر کسی کو پوری رقم میں ملنا بہت مشکل ہے، تمام کاروائی کے بعد اگر حکومت چاہے تو ہیرا گولڈ کی جائیدادیں فروخت کرکے سرمایہ کاروں کو اُنکی رقم واپس دے سکتی ہے لیکن پوری رقم ایک ساتھ ملنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!