Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: ہائی کورٹ نے بیوی کے قتل کے الزام سے شوہر کو کیا بری

اورنگ آباد:- بمبئے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے 30 سالہ ایک کسان گنیش شرساگر کو اپنی بیوی کے قتل کے الزام میں ملی سزا کو ختم کر یہ کہتے ہوئے اسے الزام سے بری کردیا کہ اسکے خلاف پیش کردہ ثبوت صرف شک کی بنیاد پر ہے۔

مزید تفصیلات کے مطابق شرساگر کو سیشن کورٹ میں اپنی بیوی کے قتل کے الزام میں مجرم قرار دے دیا گیا تھا۔ 16 اکتوبر 2011 کو ملزم کے والد بالبھیم نے گنیش کی بیوی کی لاش کو کھیت کے کنوے میں پایا تھا۔ لاش کی شروعاتی طبی جانچ سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس عورت کو کنویں میں پھینکنے سے قبل اسکا گلا گھونٹا گیا تھا۔

مقتولہ جسکا نام اکشتہ تھا جب اس کا بھائی پولس کے پاس پہنچا اور لاش کی پہچان کی تو پولس نے گنیش کو اسکی بیوی کے قتل کے جرم میں گرفتار کرلیا تھا۔

کسٹڈی کے دوران گنیش نے اقبال جرم کرلیا تھا کہ اسنے اسکارف کے ذریعہ اسکی بیوی کا گلہ گھونٹ کر قتل کیا اور پھر پتھر باندھ کر اسے کنویں میں پھینک دیا تھا۔

اس حادثہ نے بہت سو کو کرا دیا تھا اس لئے کہ دونوں میاں بیوی پونہ کے چوفلا شکراپور گاؤں میں رہتے تھے اور لاش عثمان آباد ضلع کے لوہارا گاؤں میں واقع کھیت میں ملی تھی۔ ایڈیشنل سیشن جج نے 17 اگست 2013 کو گنیش کو قتل کرنے اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے میں مجرم قرار دیتے ہوئے تا حیات جیل کی سزا دے دی تھی۔

ملزم کی جانب سے پیش ہوئے وکیل ساتیج جادھو نے عدالت میں کہا کہ اس حادثہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے اور اس مقدمہ کی بنیاد میں کوئی سیدھا ثبوت نہیں ہے۔

جادھو نے یہ بھی کہا کہ پولس یہ بھی ثابت کرنے میں ناکام ہوئی ہیکہ مقتولہ اپنے آخری اوقات میں ملزم کے ساتھ دیکھی گئی تھی۔ ساتھ ہی وکیل نے گھر میں ملے خودکشی کا خط ملنے کی بات بھی بتائی۔

اورنگ آباد بنچ کے جسٹس ایس۔ ایس شندے اور وی۔ کے۔ جادھو نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اگر موجود ثبوت ایسے ہوں جن سے ملزم مجرم بھی بتایا جا سکتا اور معصوم بھی تو ملزم کو اس کے فائدے والی چیز ملنی چاہیے۔
ہائی کورٹ نے گنیش کو باعزت بری کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف جو ثبوت پیش کیے گئے وہ کافی نہیں ہیں اور جرم ثابت کرنے کے لیے معقول بھی نہیں ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!