Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: گھاٹی دواخانے میں اقلیتوں کے ساتھ کیا جارہاہے امتیازی سلوک ۔ رضا کارانہ تنظیموں کا الزام

مراٹھواڑہ کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال ان دنوں کی نزع کی حالت میں ہے ، جہاں نہ دوا گولیاں ہیں اورنہ ہی مریضوں کے لیے مناسب سہولیات ستم ظریفی یہ کہ اسپتال کے عملے کی تانا شاہی کا خمیازہ مریضوں کو بھگتنا پڑھ رہا ہے پھر چاہے مریضہ حاملہ خاتون ہوں یا اپاہج شخص، سرکاری حکام کی اس تانا شاہی اور جانبداری کے خلاف اب این جی اوز نے آواز بلند کی ہیں۔

اورنگ آباد میں واقع مراٹھواڑہ کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال اب صرف نام کا سرکاری رہ گیا ہے ، یہاں عام آدمی کو کوئی سرکاری مراعات میسر نہیں یہاں تک کہ اب دو ا گولیاں اور انجکشن بھی باہر سے لانا پڑھ رہا ہے ، اس کے علاوہ سٹی اسکین، ایم آر آئی ، سونو گرافی ایکسرے جیسی سہولیات برائے نام ہے جہاں مریض کو انتظار میں ہی صبح سے شام ہوجاتی ہے ، سرکاری عملے پر الزام ہیکہ سٹی اسکین اور ایم آر آئی کے لیے مریض کو تین ماہ بعد کی تاریخ دی جارہی ہے، غریب اور مفلوک الحال لوگ سرکاری دواخانے کا رخ کرتے ہیں لیکن ان ضرورتمندوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ۔

گھاٹی دواخانے میں رضاکارانہ خدمات انجام دینے والی فلاحی تنظیموں کی جانب سے اسپتال انتظامیہ کو ایک مطالباتی میمورنڈم دیا گیا اس میمورنڈم میں حالیہ دنوں میں ہوئے کچھ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انتظامیہ پر جانبداری اور ایک مخصوص طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا گیا ہے ، میمو رنڈم کے ساتھ کچھ ویڈیو کلپ بھی انتظامیہ کے علم میں لائے گئے جن میں صاف نظر آرہا ہیکہ گھاٹی دواخانے کی خاتون سیکورٹی گارڈ ایک برقعہ پوش خاتون کے ساتھ انتہائی بدسلوکی کا مظاہرہ کررہی ہے ، اسی طرح اسپتال کے وارڈ میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا جبکہ ایک حاملہ خاتون کو چھ گھنٹے سٹی اسکین کے لیے انتظار کرنا پڑھا یہ ساری باتیں انتظامیہ کے علم میں لائی گئی ہیں ۔

اورنگ آباد کے گھاٹی دواخانے کا شمارمراٹھواڑہ کے برے اسپتالوں میں ہوتا ہے۔ چند برس پہلے تک چھوٹے سے چھوٹے مرض سے لیکر بڑے سے بڑے مرض کا علاج یہاں ہوتا تھا یہی وجہ ہیکہ آج بھی اس اسپتال میں یومیہ پانچ سو سے ہزار مریض آتے ہیں ،لیکن موجودہ دور میں اسپتال میں صرف سرکاری ڈاکٹر میسر ہیں اور ہٹلر کا مزاج رکھنے والے ملازمین اس کے علاوہ گھاٹی دواخانے میں اب کسی سہولت کا تصور محال ہے خود میڈیکل ڈین کا کہنا ہیکہ حکومت کے پاس بجٹ نہیں ہے تو کیا کیا جاسکتا ہے ۔

News 18 Urdu

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!