Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد : گھاٹی اسپتال کے ڈاکٹروں کا کارنامہ: دیڑھ لاکھ روپئے میں تیار ہونے والا برتھنگ بیڈ صرف 3700میں تیار کیا

اورنگ آباد (یو این آئی) قدرتی طریقے سے زچگی ( نارمل ڈلیوری ) کے لیے استعمال کیے جانے والے دیڑھ لاکھ قیمت کے ‘برتھنگ بیڈ ‘کے متبادل کے طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (گھاٹی اسپتال ) اورنگ آباد کے شعبہ امراض خواتین و زچگی کے ڈاکٹروں نے صرف 3700 لاگت سے ایک ‘برتھنگ بیڈ’ تیار کیا ہے ۔ شعبہ امراض خواتین کے صدر ڈاکٹر سری نیواس گڑپّا کے مطابق اس طرح کے 3برتھنگ بیڈ تیار کیے گئے ہیں، جن کا استعمال گزشتہ 6ماہ سے کیا جا رہا ہے اور جس کی وجہ سے ان6ماہ کے دوران گھاٹی اسپتال میں نارمل ڈلیوری کے تعداد میں 30فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ عام طور پر زچگی بستر پر لیٹنے کی صورت میں کی جاتی ہے ؛ تاہم، کشش ثقل کی وجہ سے ، زچگی میں آسانی ہوتی ہے ۔ برتھنگ بیڈ میں لگی ہوئی ایک خصوصی نوعیت کی سلاخ ( راڈ ) کے بدولت کشش ثقل کی وجہ سے زچگی آسانی سے ہو جاتی ہے ۔

بیرونی ممالک کے بشمول بھارت میں کئی مقامات پر ان برتھنگ بیڈ کا استعمال کیا جا تاہے ۔ گھاٹی اسپتال میں محفوظ اور آسانی کے ساتھ نارمل ڈلیوری کے لیے کم لاگت کے برتھنگ بیڈ کی تیاری کا خیال ڈاکڑ سری نیواس گڑپّا کو آنے پر انھوں نے ڈین ڈاکٹر کانن یلیکر کی رہنمائی میں اور ڈاکٹر سونالی دیشپانڈے ، ڈاکٹر پرشانتھ بھنگرے ، ڈاکٹر وجے کلیانکر، ڈاکٹر کی مدد سے دیڑھ لاکھ قیمت کے برتھنگ بیڈ کو ، ایک کچن ٹرالی بنانے والے کی مدد سے صرف 3700میں تیار کیا۔ گھاٹی اسپتال میں ہر سال 18ہزار سے زائد نارمل اور 4ہزار سے زائد آپریشن کے ذریعے زچگیاں ہوتی ہیں۔ یہاں ہر روز 50تا 60زچگیاں ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر سری نیواس گڑپّا کے مطابق گھاٹی اسپتال میں نارمل ڈلیوری کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے اور زچہ کو جو سات حقوق حاصل ہیں ان کا بطور خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ زچہ کو، بدعنوانی سے نجات، زچگی کے وقت ساتھ میں رہنے والے شخص کا انتخاب، تنہائی و رازداری، احترام پرمبنی رویہ، عدم بھید بھاو، بہترین نگہداشت، اور کسی بھی قسم کے دباو سے نجات جسے حقوق حاصل ہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!