Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: گھاٹی اسپتال میں MRI مشین پھر سے خراب

اورنگ آباد:- گورنمنٹ میڈیکل کالج و اسپتال میں MRI مشین پھر سے خراب ہوگئی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو کافی زیادہ پیسہ دیکر نجی لیباریٹری سے ٹیسٹ کروانا پڑ رہا ہے۔
انیل واگھ نامی شخص جو اسپتال میں اپنے آٹھ سالہ بچے کو علاج کی غرض سے لیکر آیا تھا نے کہا کہ “ اس کے بچے کو ہاتھ پر ٹیو مر ہے جسمیں علاج کے پہلے تین دنوں تک تو سب ٹھیک تھا، اس میں ہم نے سونوگرافی، ایکوکارڈیوگرافی اور ایکس رے جیسے ٹیسٹ کیے۔ لیکن اسکے بعد مجھے جمعہ کو سٹی اسکین کی تاریخ دی گئی تھی۔ لیکن جمعہ کی صبح اسپتال نے کہا کہ سٹی اسکین کا کوئی مطلب نہیں ہمیں MRI کرانا پڑیگا۔ لیکن چونکہ گھاٹی کی MRI مشین خراب ہوگئی ہے اسلئے باہر کہیں سے یہ ٹیسٹ کرانا ہوگا جسکی قیمت تقریباً 5,500 روپئے ہیں۔ میں اتنا زیادہ پیسہ نہیں لا سکتا لیکن مجھے اپنے بچے کے لیے جو کچھ کرسکتا ہوں کرنا پڑیگا۔”
گھاٹی کی اس MRI مشین میں اکثر خرابی آتی رہتی ہے۔ جسکی وجہ سے غریب مریضوں کو کافی زیادہ پیسہ خرچ کر باہر سے ٹیسٹ کروانا پڑھتا ہے۔
واضح ہوکہ شری سائی بابا سنستھان ٹرسٹ کی جانب سےگھاٹی اسپتال کو 15 کروڑ کی ایک نئی MRI مشین کی منظوری ملی ہوئی ہے۔لیکن گھاٹی انتظامیہ نے ابھی تک اس کا تخمینہ تک نہیں دے پائی ہے کہ مشین دلائی جائے۔
جب مشین کی خرابی سے متعلق گھاٹی اسپتال کی انتظامیہ سے پوچھا گیا تو نائب ڈائریکٹر تاتیا راؤ لہانے نے کہا کہ جلد ہی MRI مشین لا لی جائیگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ گھاٹی کی ایک مشین پر اسکی سکت سے زیادہ بوجھ ہونے سے بار بار خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!