Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: چڑیا گھرمیں جانوروں کے لئے معقول سہولیات نہیں، تعمیر نو کی ضرورت: ماہرین

اورنگ آباد:۔ شہر کے چڑیا گھر کو منہدم کر تعمیر نو کرنے یا کسی اور مقام پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ وہاں ماحول جانوروں کے لئے نامناسب ہے، یہ بات سینٹرل زو اتھاریٹی آف انڈیا (CZAI) کے سابق ممبرسیکریٹری برج راج شرما نے کہی۔ وہ اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے منعقدہ ماحولیاتی مسائل کے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ اس گفتگو میں سلیم علی جھیل سے متعلق بھی بات کی گئی ۔

شرما نے اپنی تقریر بعنوان ’Zoo and wildlife conservation‘ میں مراٹھواڑہ زولوجیکل پارک کو اورنگ آباد میں قائم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں نے مقامی چڑیا گھر کا دورہ کرنے پر جو محسوس کیا وہ یہ ہیکہ ہمیں اس چڑیا گھر کو یا توتوڑکر دوبارہ بنانا چاپیے یا کسی اور مقام پر منتقل کردینا چاہیے۔ میونسپل انتظامیہ کے پاس چڑیا گھر کے لئے اپنی زمین موجود ہے اور ہمارے پاس سوائے فوراً اقدام کرنے کے دوسرا حل نہیں‘‘۔

جب ان سے دریافت کیا گیا کہ اس مسئلہ پر اتنے لمبے وقت سے کام کیوں نہیں کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ’’ جب کئی دہائیوں قبل چڑیا گھر تعمیر کیا گیا تھاتب CZAIکا وجود نہیں تھا۔ تب اس سے متعلق بیداری اور حساسیت بھی کم تھی۔چڑیا گھر میں وہیں جانور موجود ہونے چاہیے جس اسکے مقصد کو پورا کریں‘‘۔

سلم علی جھیل میں عوام کے داخلے سے متعلق گفتگو میں مقامی ماہر ماحولیات دلپ یارڈی نے کہا کہ جھیل میں موجود جانداروں و دیگر چیزوں کی رپورٹ مقامی کارپوریشن کودی جا چکی ہے، کارپوریشن کو بس اتنا کرنا ہے کہ وہ رپورٹ عدالت میں جمع کروا کر اس کے عوامی داخلے کا فیصلہ کروانا ہے۔ واضح ہو کہ جھیل کے احاطہ میں داخلہ ممبئے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ کی جانب سے ستمبر 2014سے بند کیا ہوا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!