Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: پارلیمانی انتخابات :40؍نشستوں کی تقسیم پر کانگریس این سی پی متفق

اورنگ آباد کی نشست این سی پی نے ستیش چوہان کیلئے مانگی آکولہ پرکاش امبیڈکر‘ امراؤتی راجندر گوائی کودیے جائیں گے

اورنگ آباد: ۲؍نومبر (اسٹاف رپورٹر )مجوزہ پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر تمام سیاسی پارٹیوں میں ٹکٹ کے حصول کیلئے خواہشمندوں نے کمرکس لی ہے۔ وہیں دوسری جانب ہرپارٹی اپنے اپنے طورپر امیدواروں کو میدان میں اتارنے کیلئے خواہشمندکامعاشی‘سماجی‘ سیاسی پہلو کامطالعہ کررہی ہے۔ ریاست میں کانگریس این سی پی کے درمیان انتخابی اتحادپرمہرثبت ہوچکی ہے۔ آج ممبئی میں منعقدہ دونوں پارٹیوں کے اعلی قائدین کی میٹنگ میں ۴۰؍نشستوں پر اتفا ق ہوگیاہے۔ پارلیمانی انتخابات کے لیے کانگریس این سی پی کے درمیان ففٹی ففٹی فارمولہ طے کیاگیاہے۔

بقیہ ماندہ آٹھ نشستوں میں چارنشستیں اتحادمیں شامل دیگر حلیف پارٹیوں کودینے کافیصلہ کیاگیاہے۔ جبکہ بقیہ چار نشستوں پر کانگریس این سی پی دونوں اپنے دعوے ٹھونک رہے ہیں۔آج کی میٹنگ میں کانگریس این سی پی نے اتحادکوبرقراررکھتے ہوئے ونچت بہوجن اگھاڑی اور سوابھیمانی شیتکری سنگھٹنا کو اتحادمیں شامل کرنے کافیصلہ کیاگیا۔

ان دونوں پارٹیوں کوکون کون سی نشستیں دی جائیں یہ قائدین کے سامنے چیلنج ہے۔ گزشتہ دنوں پرکاش امبیڈکرنے کانگریس کے ساتھ اتحادکی حامی بھری تھی۔ لیکن این سی پی سے وہ کنارہ کشی کرناچاہتے ہیں۔کانگریس قائدین نے بتایاکہ پرکاش امبیڈکرسے گفتگوجاری ہے۔ آئندہ کچھ دنوں میں انہیں بھی اتحاد میں شامل ہونے کیلئے راضی کرلیاجائیگا۔ نشستوں کی تقسیم کے دوران آکولہ کی نشست پرکاش امبیڈکر ‘ ہات گنگلے کی سیٹ راجوشیٹی اور پال گھر کی ہتیندرٹھاکرکی بہوجن اگھاڑی اورامراؤتی کی سیٹ راجندر گوئی کیلئے چھوڑنے پردونوں پارٹیوں کے قائدین راضی ہوگئے۔ پونہ‘اورنگ آباد‘ مشرقی ممبئی‘اورجنوبی احمدنگر ان چارنشستوں پر این سی پی کیجانب سے تبدیلی کامشورہ دیاگیاہے لیکن کانگریس اسکے لئے تیارنہیں ہے۔

ساؤتھ احمدنگر سے اسمبلی اپوزیشن لیڈر رادھاکرشن وکھے پاٹل کے فرزند سوجئے وکھے پاٹل خواہشمندہیں۔ جبکہ پونہ سے این سی پی حصہ لیناچاہتی ہے۔اورنگ آبادکی نشست پربھی این سی پی نے ستیش چوہان کو چھوڑنے کامطالبہ کیاہے۔ جبکہ مشرقی وسط ممبئی کی نشست این سی پی نے مانگی ہے۔اب تک کانگریس این سی پی کے درمیان نشستوں کی تقسیم کے مسئلہ پرکئی میٹنگیں ہوچکی ہیں۔ قائدین کامانناہے کہ جو آٹھ نشستوں کیلئے دونوں پارٹیوں میں اتفاق رائے قائم نہیں ہوسکا اسکے لئے دوبارہ میٹنگ منعقدکی جائیگی۔ ونچت اگھاڑی کے پرکاش امبیڈکر کوبھی تب تک راضی کرلیاجائیگا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!