Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: ٹیکس کی خراب وصولی کے درمیان میونسپل کارپوریشن نے پیش کیا اپنا 2200کروڑ کا بجٹ

اورنگ آباد: میونسپل کارپوریشن اورنگ آباد نے معاشی سال 2019-20کے لئے تقریباً 2200کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ بجٹ پیش کرتے وقت اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن (AMC)نے کہا کہ وہ اب حال ہی میں سامنے آئی 80,000نئی عمارتوں کو پراپرٹی ٹیکس کے تحت لایا جائیگا۔ شہر میں جو عمارتیں غیر قانونی ہیں انہیں قانونی اجازت دے کر ضابطہ کے تحت لایا جائیگااور اس کے ذریعہ AMCکو تقریباً 150کروڑ روپئے کا محصول جمع ہوسکے گا۔ ساتھ ہی غیر قانونی پانی کنکشن والوں پر بھی سخت کاروائی کی جائیگی۔

حال ہی میں کارپوریشن کی خراب ٹیکس وصولی نے کارپوریشن کو کافی مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ حالانکہ اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن نے امسال اچھی ٹیکس وصولی میں کی یقین دہانی کی تھی لیکن اب تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں لیے گئے ہیں۔ معاشی سال 2018-19میں کارپوریشن نے صرف 24فی صد ٹیکس وصولی کی تھی۔ ساتھ ہی اس سے پہلے کے سالوں میں بھی کوئی خاص وصولی نہیں ہوئی تھی۔اس کے علاوہ اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کے ریکارڈ کے حساب سے شہر کیصرف آدھے پانی کنکشن ہی ٹیکس کی فہرست میں شامل ہیں جبکہ کارپوریشن کو تقریباًدیڑھ لاکھ پانی کے کنکشن سے محصول نہیں مل پاتا ہے۔

شہر پریورتن اگھاڑی کے کارکن راہل انگلے نے بتایا کہ AMCنے اپنے وعدہ کیے ہوئے اقدامات میں سے کچھ بھی پورا نہیں کیا ہے۔ غیر قانونی پانی کنکشن پر بھی کارپوریشن نے کوئی خاص کاروائی نہیں کی۔ جن کنکشن کو منقطع کیا گیا تھا انہیں دوبارہ جوڑ دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی پابندی سے ٹیکس بھرنے والوں کو بنیادی سہولیات مہیاء نہ کر انہیں بھی ٹیکس بھرنے سے دور کر رہے ہیں۔ شہر کے لوگ خراب راستوں، ٹوٹے ڈرینیج لائن، خراب راستوں کی لائٹس اور خستہ حال پانی سپلائی نظام سے پریشان ہیں۔

جب اس سے متعلق AMCکے ٹیکس وصولی ذمہ دار مہاویر پٹنی سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ٹیکس وصولی کے لئے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں اور مزید لئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم نے ٹیکس کے بڑے بقایا داروں کے ناموں کو شہر کے اہم مقامات پر لگا دیا تھا۔ ہم نے ٹیکس بقایا داروں کو نوٹس روانہ کی ہے جن پر 4کروڑ کا بقایا ہے اگر مالکان 15دن میں نہیں چکاتے تو ان پراپرٹیز کو نیلام کر دیا جائیگا۔

واضح ہو کہ حالیہ سالوں میں کارپوریشن کے کام کرنے والے کانٹریکٹرس کے کام کرنے کے بعد بھی لمبے وقت تک بلوں کی ادائیگی نہ ہونے سے احتجاج کر چکے ہیں۔ ساتھ ہی نئے کاموں کو کرنے کے لئے راضی نہیں ہیں اسی لئے کارپوریشن کے ٹینڈرز نہیں بھرے گئے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!