Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: نائب پولس کمشنر نے ہائی کورٹ میں داخلFIRرد کرنے کی عرضی واپس لی

اورنگ آباد:۔ نائب پولس کمشنر راہل شری رامے نے آج اپنے اوپر درج عصمت دری کے کیس کی FIRکو رد کرنے کی ہائی کورٹ میں داخل عرضی کو واپس لے لیا ہے۔

ہائی کورٹ کی بینچ جسٹس ایس ایس شندے اور جے کے جادھو نے دفاعی وکیل سے دریافت کیا کہ’’ ہمیں بتائیے کہ آپ اپنی عرضی واپس لینا چاہتے ہیں یا میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ چاہتے ہیں‘‘۔ عدالت میں سنوائی کے لئے معاملہ آج دوپہر سے قبل پیش ہواجس میں عدالت نے کہا کہ ’’ یہ ایک اعلیٰ درجہ کے افسر کے خلاف معاملہ ہے اور اگر ہم فیصلہ دیتے ہیں تو وہ کافی پریشانی میں پڑ جائینگے‘‘۔ عدالت نے دفاعی وکیل کو وقت دیا کہ اگر وہ چاہے تووقت لیکر اپنے موکل افسر سے پوچھ سکتے ہیں کہ آیا عرضی واپس لینا ہے یا فیصلہ سننا ہے۔ایک جج نے دفاعی وکیل پر ناراضگی جتاتے ہوئے کہا کہ ’’ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں وکیلوں کے لئے ورکشاپ منعقد کرنا پڑیگا‘‘۔

نائب پولس کمشنر کو خاتون پولس کانسٹیبل کی 22؍ سالہ بیٹی کی جانب سے عصمت دری کی شکایت پر جبراً چھٹی پر روانہ کردیا گیا تھا۔ 21؍ جون کو اس لڑکی نے شہر پولس کے واٹس ایپ ہیلپ لائن نمبر پر شکایت روانہ کی تھی جس کے بعد پولس نے اگلے دن اس لڑکی کو حاضر ہونے کہا تھا۔ ضروری کاروائی کرنے کے بعد پولس نے خاتون کی واٹس ایپ پر آئی شکایت پر دستخط لیے۔ لڑکی نے پولس سے وعدہ کیا کہ وہ اس شکایت سے متعلق تصاویر اور پیغامات کی شکل میں ثبوت پولس کے باس جمع کروائے گی۔ لیکن اس کے بعد لڑکی اور اسکی ماں اچانک غائب ہوگئے۔پولس نے نائب پولس کمشنر شری رامے کے خلاف IPCکی دفعہ 376(عصمت دری)، 323(جان بوجھ کر تکلیف پہنچانا)، 417(دھوکا دہی) اور506(مجرمانہ کوشش) کے تحت کیس درج کیا تھا۔

کیس درج ہونے کے ایک ہفتہ بعد ہی شری رامے نے کہا کہ انہیں زبردستی پھنسا یا جارہا ہے اور وہFIRرد کرنے کی عرضی لیکر ہائی کورٹ پہنچے تھے۔ اپنے وکیل کے ذریعہ انہوں نے کہا کہ ’’اس معاملہ میں FIRدرج کرنے کی بنیادی ضرورتوں کو بھی پورا نہیں کیا گیا ہے اور FIR پر شکایت کردہ کی دستخط بھی نہیں ہے‘‘۔
ساتھ ہی افسر نے عبوری ضمانت کی درخواست بھی داخل کی تھی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!