Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: متعلقہ پولس اسٹیشن میں کرایہ دارکی معلومات جمع کرنالازمی

کرایہ پرمکان یافلیٹ دینے سے قبل مکمل تحقیق کرلیں

اورنگ آباد:گزشتہ کچھ سالوں سے اورنگ آبادشہرمیں قانونی پیچیدگیوں کودورنہ کرتے ہوئے اراضیات کی خریدوفروخت‘ مکان فلیٹ اور کمرے کرایہ پر دینے کے سبب شہرمیں زمین مافیا گھروں پرقبضہ جمارہے ہیں اورایک پلاٹ کئی لوگوں کو فروخت کرنے کے ہزاروں معاملات اجاگرہوئے ہیں۔ حالانکہ اس ضمن میں سابق پولس کمشنر امیتیش کمارنے علیحدہ سیل بنایاتھا۔ان کے دورمیں زمین ہڑپنے‘ ایک سے زائدافرادکو پلاٹ بیچنے اورکرایہ کے مکانات پر قبضہ جمانے والے بدمعاشوں کے خلاف سخت کاروائی شروع کی گئی تھی۔ لیکن ایک مرتبہ پھر اورنگ آبادشہرمیں امیتیش کمارکے تبادلے کے بعدحالات تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔زمین مافیااورپلاٹ کی ہیری پھیری کرنیوالے اورکرایہ کے مکانات پر قبضہ کے معاملات اجاگرہونے لگے ہیں۔

اس ضمن میں شہرمیں خاص طورپرمسلم اکثریتی علاقوں کا سروے کرنے پریہ بات اجاگرہوئی کہ لوگ پلاٹ یامکان خریدنے سے قبل اس بات کی تحقیق نہیں کرتے کہ اس سے قبل اس جائیداد کوفروخت کیاگیاہے نہیں؟حالانکہ اس کیلئے رجسٹری دفتر‘نوٹری دستاویزات کی جانچ ضروری ہے ۔لیکن لوگوں کی یہی غفلت ان کے لئے معاشی نقصان کا سبب بنتی ہے۔ بلکہ قانونی لڑائی لڑتے لڑتے وہ بیزارہوجاتے ہیں۔جہاں تک کرایہ کے مکانات پر قبضہ کاتعلق ہے اس معاملہ میں بھی خاص طورپر مسلم علاقوں میں مکانات کرایہ پر دینے پرقانونی پروسیس کی تکمیل نہیں کیجاتی۔گھرمالکان کمرے‘فلیٹ‘ مکان قانونی کاروائی کے بعدکرایہ پرنہیں دیتے محض شناخت یا ایجنٹ کے کہنے پر کرایہ پردیتے ہیں۔کچھ علاقوں میں گیارہ ماہ کامعاہدہ اورکرایہ دارکی معلومات پولس اسٹیشن میں دی جاتی ہے۔
لیکن اکثر لوگ زائدکرایہ کی لالچ میں مکانا ت وفلیٹ دھڑلے سے کرایہ پردیتے ہیں۔ لیکن کچھ دن بعدیہ کرایہ داران مکانات پرقبضہ جماکر سیدھے گھرمالکان کوبلیک میل کرتے ہیں۔گزشتہ دنوں شہرکے مختلف علاقوں میں سناتن و جن جاگرتی سمیتی کے ممبران کو اے ٹی ایس وسی بی آئی نے حراست میں لیاتھا۔ جس میں پولس نے بغیرقانونی کاروائی کی تکمیل کے بغیران ممبران کومکانات کرایہ پردینے کے ضمن میں مالکان کوگرفتارکرلیاہے۔ جوکرایہ دارتھے وہی دھماکومادہ اورپستول وکارتوس اپنے مکانات میں رکھتے تھے۔اس میں سچن اندورے جوکمار پھلی علاقہ میں کرایہ کے مکان میں رہائش پذیرتھااس سے بھی مکان مالک نے کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی نہیں کی تھی۔وہی بات بیڑبائے پاس سے جن تین ہندودہشت گردوں کوگرفتارکیاگیاانہیں بھی مالک نے قانونی کاروائی کے بغیر کرایہ پر دیاتھا۔انہیں شدید قانونی مشکلات کاشکارہونا پڑرہاہے ۔

اس ضمن میں کرائم برانچ کے اے سی پی ناگناتھ کوڑے نے بتایاکہ گھرمالکان کو چاہئے کہ وہ کرایہ داروں کی پہلے خودتحقیق کرلیں۔ ان کے شناختی دستاویزات آدھار‘الیکشن کارڈ‘لے کر گیارہ ماہ کامعاہدہ کرے۔ان تمام کی زیراکس اورکرایہ دارکی دوتصاویر متعلقہ پولس اسٹیشن میں جمع کروائے۔ تاکہ انہیں سچن اندورے ودیگر ہندودہشت گردوں کوکرایہ پرمکان دینے والے مالکان کی طرح قانونی مشکلات کاسامنانہ کرناپڑے۔ ناگناتھ کوڑے نے کہاکہ گھرمالکان کو قانونی طورپر مکان کرایہ پردینا چاہئے۔اگرشہرمیں کوئی شخص بغیر پہنچان وتحقیق اور پولس اسٹیشن کو معلومات فراہم کیے بغیر مکان کرایہ پردیتاہے تواس کے خلاف کاروائی کی جائیگی۔

مسلم علاقوں میں مکان خالی کروانے کیلئے لاکھوں کی الٹ پھیرکادھندہ عروج پر
جہاں تک مسلم اکثریتی علاقوں میں اب تک کسی کرایہ داردہشت گرد کامعاملہ اجاگرنہیں ہواہے لیکن کئی ایسے معاملات اجاگرہورہے ہیں جس میں مکان کرایہ پرحاصل کرنے والے لوگ جرائم پیشہ ہیں۔ جو کچھ ماہ تک کرایہ تواداکرتے ہیں لیکن بعدمیں مکان مالک کوکرایہ ادانہیں کرتے اور مکان مالک کو بلیک میل اوردھمکیاں تک دیتے ہیں۔کئی معاملات ایسے بھی اجاگرہوئے ہیں جس میں یہ پیشہ ور جرائم پیشہ افرادمکان خالی کرنے کے عوض مالک مکان سے رقم کامطالبہ کرتے ہیں۔ جب تک انہیں مکان مالک لاکھ پچاس ہزارادانہیں کرتاوہ مکان خالی نہیں کرتے۔
ایسے کئی پیشہ ور کرایہ دار سامنے آئے ہیں جو اسی کاروبارمیں ملو ث ہیں۔اسلئے شہریان کوان سے ہوشیاررہنے کی ضرورت ہے۔ متعلقہ پولس اسٹیشن میں تحقیق کرکے مکان کرایہ پردیں۔ کچھ معاملات میں پولس اسٹیشن میں مکان مالک کی شکایت پرراست طورپر یہ سول میٹر ہونے کی بات کہی جاتی ہے جس سے بے بس ہوکر مکان مالک کو عدالت کادروازہ کھٹکھٹاناپڑتاہے ۔کچھ وکلاء نے بتایاکہ یہ معاملہ چونکہ سول ہوتاہے اورپولس کو مکان خالی کروانے میں کافی مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے اسلئے مکان کرایہ پردینے سے قبل مکان مالک کو مکمل احتیاط برتناضروری ہے ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!