Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: لاک ڈاؤن کے خلاف 31مارچ کو امتیاز جلیل کا مورچہ کا اعلان

لاک ڈاؤن سے پہلے انتظامیہ عوام کے کھانے کا نظم کرے : امتیاز جلیل اورنگ آباد ۔ کورونا وائرس کے خاتمہ اور مریضوں کی تعداد پر قابو پانے انتظامیہ کو ایک سال دیا گیا تھا۔ لیکن انتظامیہ اپنے اس فرض ادائیگی میں ناکام رہا ۔ اب انتظامیہ کو اور وقت نہیں دیا سکتا۔ لاک ڈاؤن نافذ کر کے انتظامیہ عوام کو اپنی لاپرواہیوں اور پاپ کی سزا دینا چاہتا ہے ۔ جبکہ کورونا پازیٹیو مریضوں کی تعداد بڑھنے اور ہونے والی اموات کے لئے انتظامیہ ہی ذمہ دار ہے۔ لہذا 30 مارچ سے 8 اپریل تک لاک ڈاؤن کو ہم قبول نہیں کریں گے۔

31 مارچ کی دوپہر 3 بجے پیٹھن گیٹ سے کلکٹر آفس ڈھول تاشوں کے ساتھ احتجاجی مورچہ نکالا جائے گا۔ جس میں غریب مزدور، دکاندار، یومیہ اجرت والے، رکشہ ڈرائیور سبھی شامل ہوں گے ۔ لاک ڈاؤن کے دوران کسی بھی اجتماعی تقریب اور دھرنے مورچہ کی اجازت نہیں ہے۔ ہمارے خلاف کیس درج ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود مورچہ نکالا جائے گا ۔ سبھی پارٹیوں کے لیڈران اور شہریان مورچہ میں شریک ہوں، یہ اعلان مجلس ممبر پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے آج پریس کانفرنس میں کیا۔ میڈیا نمائندوں کو تفصیلات بتلاتے ہوئے انہوں نے کہا گھاٹی اسپتال، سوپر اسپیشلٹی بلڈنگ، ضلع پریشد ہیلتھ، میونسپل شعبہ صحت، وومن اینڈ چائیلڈ ہاسپٹل کے علاوہ آیوش اسپتال میں 2048 اہم عہدہ جات خالی ہیں ۔ اسپتالوں کی تعمیر نہیں کی جا رہی ہے۔ اگر یہ اسپتال بن جاتے اور عہدہ جات پر تقررات کئے جاتے تو آج مریضوں کی اموات نہ ہوتی۔

امتیاز جلیل نے کہا مرنے والے ہر شخص کی موت کی وجہ کورونا بتائی جا رہی ہے۔ جبکہ مختلف بیماریوں کی وجہ سے یہ اموات ہوئی ہیں ۔ لیکن کورونا سے مرنے والوں کی تعداد بتا کر انتظامیہ عوام کو خوفزدہ کر رہا ہے ۔ لاک ڈاؤن لگانا آسان ہے مگر اس دوران لوگ کھائیں گے کیا ؟ اب کوئی این جی او سماجی ادارے لوگوں کی مدد کھانا تقسیم نہیں کریں گے۔ شہریان کی صحت زندگی کی ذمہ داری انتظامیہ کی ہے۔ لاک ڈاؤن لگانے سے پہلے پولس کمشنر، کلکٹر اور میونسپل کمشنر تینوں 50 _ 50 وارڈس کے ساکنان کے دو وقت کے کھانے کا انتظام کریں ۔ کھانے کے اسٹال لگائیں ۔

بال ٹھاکرے اسمارک کے لئے بجٹ میں 400 کروڑ کا پروویژن کیا جا سکتا ہے تو شہریان کے کھانے کے اخراجات کیوں نہیں کئے جا سکتے ۔جب تک اسپتالوں کی تعمیر اور خالی عہدوں پر تقررات نہیں کئے جاتے کسی لاک ڈاؤن کو ہم نہیں مانیں گے۔ صرف انڈسٹریز اور فلپ کارڈ و امیزون کو جاری رکھنے کی اجازت کیوں ؟ یہ سوال بھی امتیاز جلیل نے اٹھایا ۔ 31 مارچ کو ماسک لگا کر اور تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ پیٹھن گیٹ سے کلکٹر آفس یہ مورچہ نکالا جائے گا۔ چاہے پولس کیس کیوں نہ کئے جائیں، یہ دعوی بھی امتیاز جلیل نے کیا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!