Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد سے گرفتار سچن ، دابھولکر کا قاتل !

سچن پرکاش راؤ اندورے جسے شہر کے نرالہ بازار علاقہ سے گرفتار کیا گیا تھا CBIکے مطابق 2013میں مشہور مصنف نریندر دابھولکر کو قاتلوں میں شامل تھا

اورنگ آباد:۔ پونہ سے تعلق رکھنے والے 67سالہ مشہور مصنف نریندر دابھولکر کے قتل کا اہم ملزم پانچ سال بعد سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) کی گرفت میں آ گیا ہے۔ دابولکر کے قاتل سچن پرکاش راؤ آندورے کو اورنگ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔
سی بی آئی کے مطابق 20اگست 2013کو ہوئے نریندر دابھولکر کو قتل کرنے کے ملزموں میں سے ایک اہم ملزم سچن آندورے ہے۔واضح ہوکہ دابھولکر کو 20اگست 2013کی صبح چہل قدمی کے دوران گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔
یہ گرفتاریاں بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے حال ہی میں مرکزی و ریاستی ایجنسیوں کودابھولکر اور گوند پنسارے کے قاتلوں کو نہ پکڑ پانے پر پھٹکار لگانے کے بعد عمل میں آئی ہے۔ عدالت نے اس ماہ کی شروعات میں کہا تھا کہجہاں ملک میں کسی کو آزادی سے بولنے یا کچھ کرنے پر ضرب لگائی جارہی ہے اور ملک کی ایجینسیاں اس پر کوئی کاروائی نہیں کر رہی ہیں۔
سچن کی اورنگ آباد سے گرفتاری کے بعد نریندر دابھولکر کے فرزند حامد دابھولکر نے این ڈی ٹی وی سے کہا کہ ’’ یہ قتل کے پانچ سال کے بعد اور پہلے ملزم کے پکڑے جانے کے ڈھائی سال کے بعد ایک اہم پڑاؤ ہے۔ یہ صرف بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے معاملہ پر قریب سے نظر رکھنے اور ڈاکٹر دابھولکرکے ذریعہ قائم کی گئی تنظیم مہاراشٹر اندھ شردھا نرمولن سمیتی (MANS) کی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوسکا ہے‘‘۔
مہاراشٹر پولس اور سی بی آئی کی جانب سے داخل کردہ خفیہ رپورٹ کو واپس کرتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ وہ تفتیش سے سے مطمئن نہیں ہیں اور اس رپورٹ میں خفیہ جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جہاں دابھولکر کو پونہ میں 2013میں قتل کیا گیا تھا وہیں پنسارے کو 16فروری 2015کو کولہاپور میں گولی مار ی گئی تھی جس کے بعد زخموں کی وجہ سے 20فروری کو پنسارے کا انتقال ہوگیا تھا۔ جس کے بعد سے سی بی آئی اور مہاراشٹر کی CIDان معاملوں کی جانچ کررہی تھی۔
اس سے قبل دابھولکر کی قائم کردہ تنظیم MANSنے مہم کی شروعات کی تھی جس میں حکومت سے اس معاملہ میں کوئی مناسب پیش رفت نہ ہو پانے پر جواب کا مطالبہ کیا تھا۔ مہم کا عنوان ’’جواب دو‘‘ تھا جسے قتل کے پانچ سال مکمل ہونے کے دن 20اگست تک چلایا جانا طئے تھا۔
دابھولکر کی بیٹے حامد نے کہا کہ’ ’ ہمیں امید ہیکہ سی بی آئی میرے والد، پنسارے، کالبرگی اور گوری لنکیش کے قتل کی سازش کی جڑ تک پہنچے گی اور عبرت انگیز سزا کو یقینی بنائے گی‘‘۔
اس سے قبل 10جون 2016کو ان معاملوں میں سناتن سنستھا سے تعلق رکھنے والے وریندر تاوڑے کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاوڑے جو کہ ایک ڈاکٹر ہے اور ہندو جن جاگرتی سمیتی میں سرگرم عمل تھا پنسارے کے قتل کا کلیدی ملزم تھا۔تاوڑے فلحال ضمانت پر رہا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!