Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: دہلی کے تاجر کا جھانسا دےکر اورنگ آباد میں اغواء، 10 لاکھ روپئے دینے کے بعد ملی رہائی

اورنگ آباد:- ایک بین الریاستی گروہ جسکی سربراہی میوات کے مجرمین کررہے تھے ایک شمالی دہلی کے تاجر کو اغوا کرنے کی کوشش میں انہیں کرائم برانچ کے بین ریاستی سرحد اسکاڈ (IGIS) نے پردہ فاش کرلیا۔

جس تاجر کو نشانہ بنایا گیا تھا اسے ایک تجارت کی ڈیل کے لئے جھانسا دیکر اورنگ آباد لایا گیا تھا۔ اسے ہوائی اڈہ سے ایک کار میں اٹھایا گیا اور اسے ایک سلم علاقہ میں 4 دن تک رکھا گیا اور 10 لاکھ روپئے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اعلیٰ پولس افسر نے بتایا کہ تین مجرم جن کے نام جتیندر بابو راؤ پاٹل، دنیشور ٹھاکرے اور نلیش چوہان ہے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

دہلی کے تاجر سے مئی کے پہلے ہفتہ میں بیٹری گریڈ کے پلاسٹک مہیاء کروانے کے نام پر جعلی پروفائیل بنا کر آن لائن ویب سائٹ کے ذریعہ رابطہ کیا گیا تھا۔
ضروری بات چیت کے بعد تاجر کو ایک آدمی کا فون آیا جس نے خودکا تعارف اورنگ آباد میں خراب پلاسٹک کے تاجر ساگر جین کہہ کر کرایا۔14 مئی کو تاجر کو کورئیر کے ذریعہ پلاسٹک کا نمونہ بھیجا گیا جس سے اسے اورنگ آباد آنے کے کئے راضی کر کیا گیا۔
مئی کی 21 تاریخ کو دو لوگ اورنگ آباد ہوائی اڈے پر اس تاجر کو لینے پہنچے جس میں سے ایک نے اپنا تعارف ساگر جین کہہ کر کرایا۔ اسے ایک کالی اسکارپیو میں سامان دکھانے کے نام پر سلم بستی میں لیجایا گیا۔
جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو اس تاجر کو ایک کمرے میں لے جایا گیا گیا جہاں پر میوات کے تاورو گاؤں کے ہتھیار بند مجرم چالیس گاؤں تحصیل کے اپنے مقامی ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے۔
مجرموں نے پہلے اس تاجر کے پاس موجود موبائیل فون اور 2 لاکھ روپئے چھین لیے۔ پھر اسے فروطی کا مطالبہ کیا اور نہ ملنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ فروطی کی رقم بات چیت کر 10 لاکھ روپئے طئے ہوئی تھی۔

تاجر کو اپنے منیجر اور گھر والوں کو فون کروایا گیا تاکہ وہ کہے کہ تجارت کامیاب رہی ہے۔ تفتیش کررہے افسر نے بتایا کہ اس تاجر نے اپنے منیجر سے کہا کہ سامان ٹرک میں ڈال کر روانہ کردیا گیا ہے اور چاندنی چوک، دہلی میں ایک آدمی کو 8 لاکھ روپئے دینے ہے۔ جسکے بعد تاجر کے بھتیجے نے 8 لاکھ روپئے نقد وہاں ادا کیے۔

پیسے ملنے کی تصدیق ہوتے ہی مجرموں نے اس تاجر کی آنکھ پر پٹی باندھ کر اسے اورنگ آباد ہوائی اڈے سے 2 کلو میٹر دور چھوڑ دیا۔ وہ تاجر دہلی پہنچا اور اپنی داستان پولس کو بتائی۔ IGIS کی ٹیم نے اس تاجر کو جن نمبروں سے فون آیا تھا ان کی جانچ کی۔
ساگر جین کی پروفائیل کا تجزیہ کیا اور پولس نے ایک اسامی کے طور خود کو پیش کرتے ہوئے آن لائن پروفائل بنایا۔ کیس کی تفصیلات اورنگ آباد کے مخبروں کو بتائی گئی۔ جسکے بعد پولس کو جلد ہی پتہ چلا کہ اغوائی کا یہ جرم میوات کے گروہ نے انجام دیا ہے۔

چھاپہ مارنے والی ٹیم 8 جولائی کو اورنگ آباد پہنچی اور تین اغوا کنندہ کو گرفتار کرلیا۔ جرم میں استعمال ہوئی گاڑی کو بھی کرائم برانچ نے ضبط کرلیا ہے۔ گرفتار شدہ لوگوں نے بتایا کہ میوات ہریانہ کے کم از کم آٹھ اور لوگ اس گروہ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے 7 جولائی کو جئے پور کے ایک تاجر کو بھی الومونیم کی تجارت کے بہانے اغواء کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اسے اورنگ آباد پہنچ کر ان پر شک ہوگیا تھا وہ انکی گاڑی میں نہیں بیٹھا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!