Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: دہشت گردانہ کاروائیوں کے لئے اورنگ آباد سے خریدی گئی تھی اشیاء

نالاسوپارا میں دھماکہ خیز اشیاءتیار کرنے کےلئے گندھک اور بیٹری کی خریدی اورنگ آباد میں ہوئی،خریدی سلیپ سے ہواخلاصہ

اورنگ آباد:ریاست کے کچھ شہروں میں تہواروں کے موقع پر دہشت گردکاروائی انجام دینے کی غرض سے نالاسوپارا میں دھماکہ خیز اشیاءکی تیاری کےلئے لگنے والی چیزوں جیسے گندھک اور بیٹری کی خریدی اورنگ آباد شہر میں کی گئی ،اس طرح کا خلاصہ حال ہی میں گرفتار کئے گئے شرد کلسکر کی تفتیش کے بعد ہواہے۔بتادیں کہ شردکلسکر کے پاس سے اِن چیزوں کی خریدی سلیپ ضبط کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اس معاملے کی مزید جانچ کےلئے اے ٹی ایس ٹیم کے کچھ افسران شہرکے جونامونڈا علاقہ کی ایک دکان کی تفتیش کررہی ہے۔نالاسوپارا میں غیرقانونی طور دھماکہ خیز اشیاءکاذخیرہ برآمد کیاگیاتھا۔اس معاملے میں اے ٹی ایس نے سناتن سنستھا کے کارکن ویبھو راﺅت کوپہلے ہی گرفتارکرچکی ہے۔راﺅت کی تفتیش کے بعد اورنگ آباد ضلع کے کیساپوری گاﺅں سے شرد کلسکر کی بھی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔شرد نے دھماکہ خیز اشیاءکی تیاری کےلئے لگنے والی چیزوں کو خریدی اورنگ آباد سے کی ہے اس کی خریدی سلیپ اے ٹی ایس نے اپنے تحویل لی ہے۔شرد کلسکر کی تفتیش کے بعد اُس سے ملی تفصیلات کے مطابق سچائی کے جاننے اے ٹی ایس ٹیم کے کچھ افسران شہرمیں موجود ہیں۔شرد نے اورنگ آبادشہر سے دھماکہ خیز اشیاءتیار کرنے کے لئے کتنی چیزوں کی خریدی ہے ،اس کی تلاش اے ٹی ایس ٹیم کی طرف سے کی جارہی ہے۔شرد نے شہر سے بیٹری اور دیگر اشیاءخریدی کی یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔دھماکہ خیز اشیاءتیار کرنے کےلئے اور کون کون سی چیزوں کی خریدی کی ہے ،اور اُن کو اورنگ آباد سے نالاسوپارا لے گیاہے ۔اِن سبھی باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس سمت میں جانچ شروع ہے۔تفصیلات کے مطابق تین مہینے پہلے شرد اپنے ایک دوست کے ساتھ گاڑی لیکر ممبئی سے اورنگ آباد آیاتھا۔اسطرح کی بھی معلومات سامنے آرہی ہے۔اُس وقت دھماکہ خیز اشیاءکی تیاری کےلئے لگنے والی چیزوں کی خریدی کی گئی تھی اس طرح کی معلومات ذرائع سے موصول ہوئی۔گاڑیوں میں استعمال کی جانے والی بیٹری اور گندھک کی خریدی کرنے کاکام شرد اور اُس دوست کرتاتھا۔ڈاکٹر نریندردابھولکر کے قتل معاملے میں گرفتار کئے گئے مشتبہ دہشت گرد سچن اندورے بھی شرد کو دھماکہ خیز اشیاءتیارکرنے کےلئے لگنے چیزوں کی خریدی میں مددکرتاتھا۔یہ بات پولیس کی تفتیش میں شرد کلسکر نے قبول کی ہے۔اورنگ آباد شہر میں ایک دوکان سے اِن چیزوں کی خریدی کی گئی لیکن اِن چیزوں کی خریدی کےلئے شرد کلسکر نے فرضی ناموں کااستعمال کیاتھا۔خریدی سلیپ کی جب اے ٹی ایس نے تحقیق کی تو سبھی نام فرضی پائے گئے۔جس دکان سے اِن چیزوں کی خریدی کی گئی اُ س سے اور خریدی سلیپ میں کیاتال میل ہے اس کی جانچ کےلئے اے ٹی ایس ٹیم شہرمیں رکی ہوئی ہے۔ایسی بھی خبر ہے کہ خریدی سلیپ پر موجود ناموں کی تفصیل نہیں مل پارہی ہے۔اِن چیزوں کی خریدی کرتے وقت اس سے متعلق کوئی خلاصہ نہ ہو اس کا پورا دھیان رکھاگیاہے۔گوری لنکیش کاقاتل امول کالے اورنگ آباد جالنہ میں کہاں اور کیسے مقیم تھا اُ س کے رابطہ میں کون کون لوگ تھے ۔اس کی جانچ فی الحال کرناٹک اے ٹی ایس کررہی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!