Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد:کچرا اٹھانے والی کمپنی کو 27کروڑ روپئے دینے کا ٹریبیونل کورٹ نے میونسپل کارپوریشن کودیا حکم

اورنگ آباد:۔ پہلے ہی سے پیسے کی کمی سیپریشان اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ ٹریبیونل کورٹ کے جسٹس ایف۔ آئی۔ ریبیلو نے کارپوریشن کو حکم دیا ہیکہ وہ کچرا اٹھانے والی کمپنی ریمکے اینویرو انجینیرس لمیٹیڈ کو اس کا بقایہ 11.54کروڑ روپئے اوراس پر 15فیصد سودادا کرے۔
میونسپل کارپوریشن نے 10سال کے لئے کچرا جمع کرنے اور اسے پہنچانے کے لئے 8؍اکتوبر 2008کو کمپنی کے ساتھ 108.5کروڑ روپئے کا معاہدہ طئے کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق اس نے 1؍اکتوبر 2009سے روزانہ سیکڑوں ٹن کچرا اٹھانا شروع کردیا تھا۔

کمپنی کے وکیل امیت یڑکیکر نے ٹریبیونل عدالت میں کہا کہ کمپنی کے ذریعہ جو بھی بل پیش کیے گئے تھے اسکی جانچ کر میونسپل کارپوریشن نے انھیں پہلے ہی منظوری دے دی تھی لیکن انہیں بنا کسی وجہ کے ادا نہیں کیا گیا۔ میونسپل کارپوریشن نے بعد میں کمپنی کو بتائے بنا اپنے طور پر چند تبدیلیاں کی اور بل میں کٹوتی کردی۔ اس کے بعد اچانک سے 3دسمبر 2011
کو میونسپل کارپوریشن نے معاہدہ رد کرنے کی نوٹس روانہ کردی۔
معاہدہ رد کرنے کے بعد کمپنی نے ہائی کورٹ کا رخ کیا جس کے بعد ہائی کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایف۔ آئی۔ریبیلو کو اس معاملہ میں فیصلہ سنانے کی ذمہ داری دی۔

جسٹس ریبیلو نے اس معاملے کی پہلی سنوائی 14؍اپریل 2012کو کی جس میں کمپنی نے میونسپل کارپوریشن سے مطالبہ کیا کہ وہ بقایہ بل 18.14کروڑ کے بشمول 34.21کروڑ روپئے ادا کرے اور ساتھ ہی کمپنی کی جائیدادوں کو غیر قانونی طور پر قبضہ میں لینے کے لئے 6.13کروڑ روپئے ادا کرے۔

میونسپل کارپوریشن نے جواب میں کمپنی پر الزام لگایا کہ اس نے اپنا کام کرنے میں سستی برتی ہے اور معاہدہ پر پورے نہیں اترے ہیں جس کی وجہ سے میونسپل کارپوریشن کو مالی نقصان ہوا ہے۔ ساتھ ہی میونسپل کارپوریشن نے یہ بھی کہا کہ جس دوران کمپنی نے کچرا اٹھانا جاری رکھا تھا اس وقت کے بل ادا کیے جاچکے ہیں۔

اس معاملے کی سنوائی اس سال کی 16؍مارچ تک چلی جس کے بعد کل اس کا فیصلہ سنایا گیا۔ جسٹس ریبیلو نے اپنے 60صفحات کے فیصلہ میں میونسپل کارپوریشن کو حکم دیا کہ وہ ریمکے کمپنی کو12دسمبر 2011سے اب تک 15فیصد سالانہ سود کے ساتھ 11,54,17,816روپئے ادا کرے جو کہ کل 27کروڑ روپئے ہوتا ہے۔

کمپنی کی جانب سے دلیل کررہے وکیل این۔بی۔کھنڈارے نے کہا کہ ٹریبیونل کورٹ نے میونسپل کارپوریشن کو حکم دیا ہیکہ وہ15؍جون 2012سے 9فیصد سالانہ سود کے ساتھ 2,39,56,372روپئے منافع کی جگہ ادا کرے ۔ ساتھ ہی ٹریبیونل نے حکم دیا ہیکہ میونسپل کارپوریشن کمپنی کو 75,00,000روپئے وکیل کی فیس اورثالثی کے طور پر ادا کرے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!