Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد:نائب پولس کمشنر اپنے خلاف دائر عصمت دری کی FIR کو رد کرانے پہنچے ہائی کورٹ

اورنگ آباد:- نائب پولس کمشنر راہل شری رامے جن پر پچھلے ہفتے ایک 22 سالہ خاتون کے ساتھ عصمت دری کرنے، ڈرانے اور نقصان پہنچانے پر MIDC پولس تھانہ میں FIR درج ہوئ تھی اس FIR کو رد کرنے کی اپیل لیکر ہوئی کورٹ پہنچے ہیں۔
نائب پولس کمشنر پر الزام ہیکے انہوں نے اس خاتون کو نوکری کے لئے مہاراشٹرا پبلک سروس کمیشن (MPSC) امتحان کی تیاری کے نام پر عصمت دری کی ہے۔
شکایت کردہ اورنگ آباد ٹریفک میں کام کر رہی ایک خاتون کانسٹیبل کی بیٹی ہے۔ شکایت درج کروانے کے بعد سے غائب 22 سالہ مظلوم اور اسکی ماں کو تلاش کرنے میں پولس جٹی ہوئی ہے۔ خاتون نے پولس میں اپنی شکایت بھی21 جون کو Whatsapp ہیلپ لائن نمبر کے ذریعہ درج کروائی تھی۔
ہائی کورٹ میں FIR رد کرنے کی درخواست پر نائب پولس کمشنر کے وکیل کہا کہ کیس صرف Whatsapp پر شکایت کے ذریعہ درج کیا گیا ہے اور شکایت کردہ نے خود سے نہیں درج کروائی ہے اور نہ ہی اس پر شکایت کردہ کی دستخط موجود ہے۔
نائب پولس کمشنر کی جانب سے حاضر ہوئے وکیل ابھیشیک کلکرنی نے میڈیا سے کہا کہ “ اس پٹیشن کے ذریعہ ہم نے FIR کو چیلینج کیا ہے اس لیے کہ CrPC کی دفعہ 154 کے تحت FIR درج کرنے کی بنیادی ضروریات کو نہیں برتا گیا ہے۔” وکیل نے بتایا کہ CrPC کی دفعہ 154 کے تحت شکایت کے صفحات پر شکایت کردہ کی دستخط ہونا لازمی ہے جو یہاں پر موجود ہی نہیں ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!