Published From Aurangabad & Buldhana

انڈر 19کرکٹ عالمی کپ : فائنل مقابلے کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش ٹیم میں ہوئی جھڑپ پر آئی سی سی نے دونوں ٹیموں کے 5کھلاڑیوں کو قصوروار ٹھہرایا

آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ کے فائنل میچ کے بعد بنگلہ دیش اور ہندوستانی کھلاڑیوں کے درمیان ہوئے تنازعہ کے معاملے میں بنگلہ دیش کے تین اور ہندوستان کے دو کھلاڑی آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے قصوروار ثابت ہوئے ہیں ۔ بنگلہ دیش نے ہندوستانی انڈر 19 ٹیم کو فائنل میں تین وکٹ سے شکست دی تھی ، جس کے بعد بنگلہ دیش اور ہندوستانی کھلاڑیوں کے درمیان تنازعہ ہو گیا تھا ۔ اس تنازعہ کو لے کر اگرچہ بنگلہ دیش ٹیم کے کپتان اکبر علی نے بعد میں معافی بھی مانگی تھی ۔

بنگلہ دیش کے محمد توحید ، شمیم ​​حسین اور رقیب الحسن آئی سی سی کی دفعہ 2.21 توڑنے کے قصوروار پائے گئے ہیں جبکہ ہندستان کی جانب سے آکاش سنگھ اور روی بشنوئی سیکشن 2.5 کی ضابطہ شکنی کے قصوروار ٹھہرائے گئے ہیں ۔ ان کھلاڑیوں پر میدانی امپائر سیم نوگسكی، ایڈريم هولڈاسٹك ، تیسرے امپائر رویندر ومالاسری اور چوتھے امپائر پیٹرک بونگنی جیلی نے یہ الزام لگائے ہیں ۔ آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میچ کے ریفری گرائم لیبرو نے پانچ کھلاڑیوں پر الزام تجویز کئے ہیں۔


توحید کو اس کے لئے 10 معطلی پوائنٹس ملے ، جس سے ان کے چھ ڈیمیرٹ پوائنٹس ہوئے ہیں جبکہ حسین اور آکاش کو آٹھ معطلی پوائنٹس ملے ، جس سے ان کے چھ ڈیمیرٹ پوائنٹس ہوئے ہیں ۔ حسن کو چار معطلی پوائنٹس ملے ، جس سے ان کے پانچ ڈیمیرٹ پوائنٹس ہوئے اور بشنوئی کو دفعہ 2.21 توڑنے کے معاملہ میں پانچ ڈیمیرٹ پوائنٹس اور دفعہ 2.5 کی خلاف ورزی کی صورت میں دو ڈیمیرٹ پوائنٹس ملے۔ کھلاڑیوں کو ملے یہ ڈیمیرٹ پوائنٹس دو سال کی مدت تک ریکارڈ کئے جائیں گے ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!