Published From Aurangabad & Buldhana

انل دیشمکھ کے خلاف ابتدائی جانچ کے ممبئی ہائی کورٹ نے س بی ائی کو دیاحکم

ممبئی۔مذکورہ ممبئی ہائی کورٹ نے پیر کے روز مہارشٹرا کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی ابتدائی جانچ کی سی بی ائی کو ہدایت دی ہے۔ممبئی پولیس کے سابق پولیس کمشنر کی دائر کردہ ایک پی ائی ایل اور اسی طرح کی دیگر تین درخواستوں پر مذکورہ بنچ کے احکامات جاری کئے ہیں۔

چیف جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس جی ایس کلکرنی کی ایک ڈویثرن بنچ نے چہارشنبہ کے روزمذکورہ درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کردیاتھا۔ ممبئی پولیس کے سابق سربراہ پرام بیر سنگھ نے ”شواہد کو تباہ کئے جانے“ سے قبل مہارشٹرا کے ہوم منسٹر انل دیشمکھ کے خلاف”فوریاو رشفاف تحقیقات“ متعدد”بدعنوانی کے معاملات“ میں کرانے کی مانگ کی تھی۔

مزیدبرآں انہوں نے ریاستی حکومت کے لئے کسی بھی سیاست داں اس کو فائدے کے لئے پولیس تبادلے یاپھر پرکاش سنگھ اور دیگر بمقابلہ حکومت ہند کی جوازجاری کردہ گائیڈ لائنس کی خلاف ورزی کے خلاف بھی ہدایت مانگی تھی۔ ایک ایف ائی کی عدم موجودگی میں ایک تحقیقات کے احکامات جاری کرنے پر مذکورہ بنچ کا جسٹس وی رمنا کا افسوس ظاہر کیا۔ سی جئے دتا کا احساس ہے کہ ”فوجداری قانون کو حرکت میں لانے کا پہلا قدم ایک ایف ائی آر ہے۔جسٹس دتا نے پولیس میں ایف ائی آر درج کرائے بغیر ہی آزادنہ جانچ کے عدالت سے رجوع ہوکر مانگ کرنے کے عمل پر متنبہ کیا۔

مذکورہ بنچ کا ماننا ہے چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرنا(جیسا کہ پرم بیر سنگھ نے کیاہے) کافی نہیں ہے۔ عدالت نے اپنے احکامات میں پوچھا کہ”تم(پرم بیر سنگھ) ایک پولیس افیسر ہیں۔ اگر تمہیں کوئی جرم ہوتادیکھائی دتا ہے تو آپ کی ذمہ داری ہے ایک ایف ائی آر درج کریں۔آپ یہ کیوں نہیں کیا؟۔ آپ کو اس با ت کی جانکاری کے بعد بھی کہ کوئی جرم پیش آیا ہے اور آپ نے ایف ائی آر درج نہیں کیاہے تو آپ اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

صرف چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرنا کا م نہیں ہے“۔سنگھ کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے والے وکیل وکرم نانکنی نے اپنے استدلال میں کہاکہ مذکورہ الزامات ”پولیس کے اعلی عہدے“پر فائزرہنے والے شخص نے لگائے ہیں جس میں ایک آزادنہ تحقیقاتی ادارے سے جانچ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سنگھ کے تبادلے کے متعلق سابق کمشنر(انٹلیجنس) سے ڈائرکٹرجنرل آف پولیس رشمی شکلا کو لکھے گئے مکتوب کو پڑھ کر سنایا۔ نانکنی نے کہاکہ سنگھ نے اپنے تبادلے کو چیالنج نہیں کیا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!