Published From Aurangabad & Buldhana

انل امبانی کو رافیل سودے کی مکمل جانکاری پہلے سے ہی تھی!! میڈیا پارٹ کا انکشاف

رافیل جہاز سودے میں بدعنوانی کی پرتیں ایک بار پھر کھلنے لگی ہیں۔ فرانس کی نیوز ویب سائٹ ’میڈیا پارٹ‘ نے اس سودے میں ہوئی بدعنوانی پر ایک انویسٹیگیٹو رپورٹ تیار کی ہے، جس کی دوسری کڑی کو آج ریلیز کیا گیا۔ اس میں میڈیا پارٹ کا کہا ہے کہ انل امبانی کے ریلائنس گروپ کو اس سودے کی پہلے سے جانکاری تھی اور انہوں نے اس میں اپنی حصہ داری حاصل کرنے کے لئے فرانس کے اس وقت کے صدر فرانسواں اولاند کی اہلیہ کی فلم کو فائننس کیا تھا۔

فرانسیسی کمپنی کے ذریعہ 36 رافیل لڑاکا جہاز کے متنازعہ سودے کے تعلق سے تین حصوں پر مبنی رپورٹ کے دوسرے سلسلہ میں فرانس کے ادارے ’میڈیا پارٹ‘ نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ کیسے فرینچ پبلک پروسیکیوشن سروسز، فنانشیل کرائم برانچ کی سربراہ الیین ہولیت نے اس سودے میں ہوئی مبینہ بدعنوانی کو دبا دیا تھا۔ جبکہ ان کے ساتھیوں کی رائے ان سے مختلف تھی۔ فرانس کے موجودہ صدر امانول میکرون اور سابق صدر فرانسواں اولاند کے نام بھی اس معاملہ میں منسلک ہیں۔ ہولیت نے اپنے فیصلے کے دفاع میں کہا ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ فرانس کے مفادات اور اداروں کے کام کاج کی حفاظت کے لئے کیا۔

شائع رپورٹ کے مطابق، سال 2018 کے اکتوبر ماہ کے آخر میں فرینچ پبلک پروسیکیوشن، فنانشیل کرائم برانچ، پی این ایف کی سربراہ الیین ہولیت سے ایک معروف غیر سرکاری تنظیم نے ایک لیگل نوٹس پیش کر کے ایک مشکوک اور بڑے گھوٹالہ کی طرف اشارہ کیا تھا، جس میں فرانسیسی ریاست اور فرانس کی ایک بڑی صنعتی کمپنی ڈسالٹ ایویشن کی شمولیت تھی۔ شیرپا نامی پیرس کی غیر سرکای تنظیم نے میڈیا میں شائع انکشافات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ہندوستان کو 7.8 بلین یورو کے 36 ڈسالٹ رافیل لڑاکا جہازوں کی فرانس کے ذریعے بکری میں بدعنوانی، منی لانڈرنگ، پیڈلنگ اور جانب داری کے شبہات ہیں۔

شیرپا تنظیم نے جو دستاویزات پیش کئے تھے ان کو ’سگلنالیمنٹ‘ کہا جاتا ہے اور فرانس میں یہ کسی مجرمانہ عمل کے لئے ایک سرکاری الرٹ ہوتا ہے، جس کو ان لوگوں یا اداروں کے ذریعہ پیش کیا جا سکتا ہے جو مبینہ جرم سے سیدھے طور پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ یہ ایک سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس لئے نہیں کہ یہ دو حکومتوں کے مابین اسلحہ کا بڑا سودا ہے بلکہ اس لئے بھی کہ اس کے ممکنہ اثرات فرانسیسی صدر امانول میکرون، سابق صدر فرانسواں اولاند اور اس وقت کے وزیر دفاع اور موجودہ وزیر خارجہ جاں یس لی ڈرائن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

جنوری 2016 میں اس وقت کے فرانسیسی صدر فرانسواں اولاند اور ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے مابین رافیل سودے کے لئے بین حکومتی معاہدہ پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدہ پر دستخط سے پہلے ریلائنس گروپ، جو دفاع اور ٹیلی مواصلات اور تفریحی شعبہ میں کام کرتا ہے، اس نے فرانسیسی صدر کی پارٹنر اور اداکارہ جولی گےیت سے ایک فیچر فلم کے لئے 1.6 میلین یورو کی فنڈنگ کا وعدی کیا۔ میڈیا پارٹ نے سال 2018 میں اس تعلق سے جب فرانسواں اولاند سے دریافت کیا تھا تو انہوں نے صاف کہا تھا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ انل امبانی کے ریلائنس گروپ نے جولی گےیت کے ساتھ فلم بنائی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انل امبانی نے ڈسلاٹ ایویشن کے سربراہ پر ہندسوستانی شراکت دار بنانے کے لئے ہندوستانی حکومت پر دباؤ ڈالا تھا حالانکہ ڈسالٹ اور اس وقت کے فرانسیسی وزیر دفاع جاں یس لی ڈرائن نے اس بات سے انکار کیا ہے۔

اس دوران اپریل 2019 میں فرانسیسی ’لی مونڈے ‘ نے رپورٹ شائع کی تھی کہ سال 2014 سے سال 2016 کے درمیان اولاند کے وزیر خزانہ رہے امانول میکرون نے ریلائنس کی فرانسیسی اکائی کا بہت موٹا ٹیکس معاف کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ریلائنس پر 151 ملین یورو کا ٹیکس عائد ہوتا تھا جسے میکرون نے کم کر کے 7.6 ملین یورو کر دیا لیکن فرانسیسی صدر کے افسران نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے میکرون اور انل امبانی کی کسی ملاقات کی جانکاری سے انکار کیا ہے۔ اس سلسلہ میں میڈیا پارٹ کو جو دستاویزات اور لوگوں کے بیانات حاصل ہوئے ہیں اس سے صاف ہوتا ہے کہ شیرپا نے فرانس کی انسداد بدعنوانی برانچ کی سربراہ کو جو دھماکہ خیز دستاویزات سونپے تھے اس کی بنیاد پر جانچ شروع ہونی چاہئے تھی لیکن رافیل سودے کو لے کر کسی قسم کی جانچ کو ضروری نہیں سمجھا گیا۔

جون 2019 میں پی این ایف کے سربراہ کا عہدہ چھوڑنے سے کچھ وقت پہلے ہی الیین ہولیت نےشیرپا این جی او کے ذریعہ داخل کئے گئے دستاویزات کی بنیاد پر کوئی معاملہ درج کئے بغیر ہی اس کی جانچ بند کر دی۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس میں کوئی جرم نہیں ہوا جبکہ یہ فیصلہ ایسا ہے جو کیس کی جانچ کر رہے ڈپٹی پراسیکیوٹر کے مشورہ کے خلاف تھا اور انہوں نے اس معاملہ میں رپورٹ داخل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد ہولیت کے فیصلے پر پیرس پبلک پراسیکیوشن کے دو ججوں نے مہر لگا دی تھی اور ہولیت کے بعد بنے پی این ایف کے سربراہ فرانسواں بوہنرت نے بھی اس کو آگے نہیں بڑھایا۔

جولائی 2020 میں پیرس میچ میگزین کو دئے ایک انٹرویو میں اس موضوع پر ہولیت نے کہا تھا کہ ’’کوئی بھی اپنے دور اقتدار میں ہر چیز پر نظر نہیں رکھ سکتا اور اس کی جانچ نہیں کر سکتا ۔‘‘ انہوں نے کہا تھا ’’کسی بھی معاملہ کی جانچ شروع کرنے سے پہلے فرانس کے مفادات اور اداروں کے کام کاج کو دھیان میں رکھنا پڑتا ہے۔‘‘ یعنی فرانس کی فنانشیل کرائم برانچ، پی این ایف کی پہلی سربراہ جو سال 2014 سے سال 2019 تک اس عہدے پر رہیں، ایک حساس معاملہ کی جانچ نہیں کر پائیں کیونکہ ان کی نظر میں قومی مفادات بالاتر تھے۔ میڈیا پارٹ نے ہولیت سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ اب اس عہدے پر نہیں ہیں اور اس سلسلہ میں جو بھی پوچھنا ہے وہ بوہنرت سے پوچھیں۔ دوسری جانب ڈسالٹ ایویشن نے بھی میڈیا پارٹ کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔

واضح رہے، اس سارے معاملہ کی شروعات سال 2012 میں ہوئی تھی جب ایک پبلک ٹینڈر کے ذریعہ ہندوستانی ایئر فورس کے لئے 126 رافیل جہازوں کی سپلائی کے لئے ڈسالٹ ایویشن کا انتخاب ہوا تھا۔ شروعاتی بات چیت کے تحت ان 126 میں سے 108 رافیل جہاز ہندوستان میں تیار کئے جانے تھے۔ اسےآفسیٹ اگریمنٹ کہا گیا اور اس سے ہندوستان کی معیشت کو معاشی فائدہ ہونے والا تھا۔ اس معاہدہ میں ڈسالٹ ’ہندوستان ایرونوٹکس لمیٹڈ’ یعنی ایچ اے ایل کے ساتھ مل کر ہندوستان میں ہی 108 رافیل جہاز بنانے والی تھی۔ ہندوستانی حکومت نے ایچ اے ایل کو ڈسالٹ کا ہندوستان میں مرکزی پارٹنر بنایا تھا۔ پورے سودے کی قیمت کا قریب آدھا یعنی لگ بھگ 4 ملین یورو ڈسالٹ ایویشن کو ہندوستانی کمپنیوں میں جہازوں کے لئے پرزے وغیرہ خریدنے میں لگنا تھا۔

قریب 3 سال تک اس معاملہ میں سودے بازی ہوتی رہی اور سال 2015 میں اچانک حالات بدل گئے۔ ایک سال پہلے ہی اقتدار میں آئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپریل 2015 میں فرانس کا دورہ کیا اور سودے کی شرائط کو بدل کر انہوں نے فرانس سے 36 رافیل لڑاکا جہاز خریدنے کے سمجھوتے کا اعلان کر دیا۔ اس سمجھوتے میں ایچ اے ایل کو درکنار کر دیا گیا اور اس کی جگہ انل امبانی کی کمپنی کو ڈسالٹ ایویشن کا مرکزی شراکت دار بنا دیا گیا۔ میڈیا پارٹ کا کہنا ہے کہ انل امبانی کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور ان کی کمپنی کو ایویشن شعبہ میں کوئی تجربہ بھی نہیں ہے۔

میڈیا پارٹ کا کہنا ہے کہ اتنا ہی نہیں انل امبانی کو اس سودے کی پہلے سے ہی جانکاری تھی اور انہیں پتہ تھا کہ نئے سودے میں ان کی کمپنی کو ڈسالٹ ایویشن کے مرکزی شراکت دار کے طور پر شامل کیا جائے گا۔ میڈیا پارٹ نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی اور اس وقت کے فرانسیسی صدر اولاند کے ذریعہ 36 لڑاکا جہازوں کی خرید کے سودے کے اعلان سے کوئی 3 ہفتہ پہلے انل امبانی پیرس آئے تھے اور انہوں نے فرانسیسی وزیر دفاع جاں یس لی ڈرائن کے مشیروں سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد اور رافیل سودے پر دستخط ہونے سے ایک ہفتہ پہلے انل امبانی نے 28 مارچ 2015 میں ریلائنس ڈفینس نام کی ایک کمپنی قائم کی اور جب سودے کا اعلان ہوا تو ریلائنس ڈفینس کو ڈسالٹ ایویشن کا مرکزی شراکت دار بنا دیا گیا۔ یعنی رافیل سودے پر حتمی اتفاق رائے سے پہلے سے کوئی ایک سال پہلے انل امبانی کی کمپنی کو ڈسالٹ کا شراکت دار بنا دیا گیا تھا۔

میڈیا پارٹ کی رپورٹ کے مطابق موجودہ وزیر خارجہ اور اس وقت کے وزیر دفاع جاں یس لی ڈرائن کے انل امبانی کے ساتھ تعلقات ہیں اور ڈرائن کا کہنا ہے کسی بھی صنعت کار کے لئے ایسے تعلقات کا ہونا عام بات ہے۔ حالانکہ انہوں نے رافیل سودے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ واضح رہے کہ مودی حکومت پر رافیل سودے میں بدعنوانی کے الزامات عائد ہو رہے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس سودے کو حتمی شکل دینے سے پہلے اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر کو بھی اعتماد میں نہیں لیا تھا۔

بشکریہ قومی آواز بیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!