Published From Aurangabad & Buldhana

امریکہ و یورپ میں ممنوع مرغیوں کی ہندوستان میں فروحت جاری

ممبئی: جانوروں کے دوائیاں تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی زوئٹس کوامریکہ و یورپ میں ان اینٹی بائیو ٹکس کو تیار کرنے اور فروخت کرنے پر پابندی عائد کردی تھی جو جانوروں کی نشوونما کو وقت سے پہلے بڑھادیتی ہے اور جس کی وجہ سے لوگوں کے جسموں کو نقصان پہنچتا ہے۔ لیکن یہ کمپنی ان ممنوع دوائیوں کو ہندوستان میں مستقل فروخت کررہی ہے۔ واضح ہو کہ یہ دوا خاص طور سے مرغیوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے جس کا بڑے پیمانے پر استعمال کھانے کے لئے ہوتا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے مرغیوں میں ان دواؤں کے استعمال پرسخت پابندی عائد کی ہے اس لئے کی اس کی وجہ سے غیر علاج شدہ انفیکشن ہوتا ہے۔ امریکہ اور یورپ نے ان دواؤں پر پابندی کو قبول کرلیا ہے لیکن ہندوستان میں اس متعلق کوئی قانون نہیں بن پارہا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کرنے کی ہے کہ ان اینٹی بایوٹیک والی مرغیوں کے کھانے سے جسم میں جراثیم سے لڑنے کی طاقت ختم یا کم ہوجاتی ہے۔ ان انفیکشن کی وجہ سے ہر سال ہندوستان میں تقریباً 1,00,000بچوں کی اور 7,00,000لوگوں کی اموات ہوتی ہیں۔

یہ بات خیال میں رکھنی چاہیے کہ ہندوستان میں رہنے والوں کی بڑی تعداد بائلر مرغیاں کھاتی ہیں جنہیں دواؤں کے ذریعہ کم وقت میں بڑھا کیا جاتا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں مرغیوں (چکن) کو کھانے کی وجہ سے لوگوں میں پہلے ہی سے بیماریاں ہو رہی ہیں ۔ان سے اگر انفیکشن سے لڑنے کی جسم کی طاقت بھی متاثر ہوتی ہے تو مزید پریشانیاں پیدا ہونگی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!