Published From Aurangabad & Buldhana

امریکہ و چین پالیسی میں فرق

حمید اللّٰہ
چین و امریکہ دونوں ہی دنیا کو اپنی پالیسی پر چلانے کے آرزو مند ہیں مگر ایجنڈا یکساں ہونے کے باوجود دونوں کا کام کرنے کا انداز مختلف ہے۔ چین تجارت کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش کے ساتھ نئی گزرگاہیں تعمیر کر رہا ہے کام سے قبل دوستانہ ماحول بناتا ہے پھر سرمایہ کاری شروع کرتا ہے مگرتمام منصوبوں میں مکمل شفافیت کے بارے وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اِس بات میں شائبہ نہیں کہ چینی کمپنیاں پس پردہ ٹھیکے لینے اور منافع بڑھانے کوبْرا تصور نہیں کرتیں ایسی کمپنیوں کے خلاف ملک میں کارروائی بھی ہوتی ہے مگر ہر منصوبہ کی نگرانی حکومت کے لیے ممکن نہیں اسی لیے کچھ دو کچھ لو کا بْرا کام جاری ہے۔ چین تناؤ پیدا کرنے سے حتی الامکان گریز کرتا ہے۔ دوستوں کی معیشت بہتر بناکر منافع کمانے کے ساتھ اپنا عالمی کردار بڑھانے کے لیے تائید لے رہا ہے۔ وہ حریف ممالک سے بھی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آنے دیتا ۔چین نے افریقی ملک جیبوتی میں فوجی اڈا بنا لیا ہے یہ اْس کا کسی دوسرے ملک میں پہلا اڈا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ چین کی طرف سے اڈا بنانے کی کہیں سے مخالفت نہیں ہوئی بلکہ دوستانہ ماحول ہے۔ اب واخان کی پٹی پر نئے فوجی اڈے کی تعمیر کی باتیں گردش کررہی ہیں۔یہ علاقہ چین ،روس اور افغانستان کو جدا کرتا ہے۔ اڈے کی تعمیر سے قبل چین افغانستان کو اعتماد میں لینے کے لیے کوشاں ہے حالانکہ افغانستان چاہے بھی تو چیلنج کرنے کی پوزشن میں نہیں آسکتامگر چین بدمزگی نہیں چاہتا۔ اْسے بخوبی معلوم ہے کہ افغان حکومت آزادانہ فیصلے کرنے سے قاصر ہے یہ سوچ نفرت بڑھانے والی نہیں روس اورپاکستان تو چینی پالیسیوں سے کلی متفق ہیں لیکن امریکی پالیسی ساز ہراس کا شکار ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں عالمی سطح پر چین کا جوں جوں کردار بڑھے گا اْسی رفتار سے امریکہ کی واحد سْپر طاقت کی حیثیت متاثر ہوگی اسی لیے بھارت کے ذریعے چین کو گھیرنے اور محدود کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
امریکہ نے مواقع ملنے کے باوجود تنازعات ختم کرانے میں ذمہ دارانہ طرزعمل نہیں اپنایا تاکہ دنیا میں امن قائم ہو بلکہ کوشش کی ہے کہ متحارب فریقوں میں ٹکراؤ کی نوعیت میں اضافہ کیا جائے تا کہ امریکہ کو اسلحہ کے نئے خریدار دستیاب ہوں۔ مگر یہ پالیسی ہتھیاروں کی تجارت کے لیے سود مند ہے لیکن امن پسند حلقوں کو بدظن کرنے کا باعث بنی ہے جس سے واحد سْپر طاقت کے کردار کو دھچکا لگا ہے۔ سی پیک کی مخالفت سے امریکہ کو نیک نامی نہیں ملی۔ ایک تجارتی منصوبے میں شامل ہو کر وہ بھی فوائد حاصل کر سکتا تھا۔ امریکی مخالفت کے بارے عام خیال یہ ہے اِس منصوبے میں ہتھیاروں کی فروخت کا کوئی امکان نہیں بلکہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بننے سے خوشحالی آئے گی اور دیرپاامن ہوسکتا ہے اسی لیے بدامنی کو فروغ دے رہا ہے۔ افغانستان کی بے اختیار حکومت کٹھ پتلی کی طرح اْس کے اشاروں پر رقصاں ہے۔ مقصد پاکستان اورچین میں فاصلے بڑھائے جائیں مگر ایسا لگتا ہے کامیابی نہیں ہوگی اگر چین اربوں کی سرمایہ کاری کر رہا ہے تو اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے بھی اْس کے پاس آپشن ہوں گے انجام کار پاکستان میں بھی فوجی اڈے کی تعمیر ہو سکتی ہے تا کہ گوادر کی ناکہ بندی کی صورت میں کاروائی کی جاسکے۔امریکہ میں یہ بھی خامی ہے کہ اپنے حریفوں کو دھمکیاں دینے کے ساتھ حلیفوں کو بھی دباؤ میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ دور کیوں جائیں نیٹو رکن ترکی کی مثال لے لیں اگر امریکہ چاہتا تو ستمبر 2017ء میں عراقی کردستان ریجن میں ریفرنڈم کی نوبت نہ آنے دیتامگر دور بیٹھ کر تماشہ دیکھتا رہا۔ کرد علاقے کے صدر مسعو د برزانی اپنی فوج رکھتے ہیں جن کے پاس امریکی ساختہ ہتھیار ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ترکی اور کرد لڑائی میں وسعت آرہی ہے کیونکہ ترکی نے یہ پیغام لیا ہے کہ ریفرنڈم سے اگر کرد ریاست وجود میں آجاتی ہے تو کل کو ترک آبادی کا سترہ فیصد کرد بھی آزادی لے کر گریٹ کردستان کا حصہ بن سکتے ہیں۔ خدشہ کی وجہ یہ ہے کہ ریفرنڈم میں سوال دریافت کیا گیا کہ کرد ریجن اور کرد ریجن سے باہر علاقوں پر مشتمل کیا آپ آزاد ریاست بنانے کے حمایتی ہیں۔ اِس سوال کی نوے فیصد نے حمایت کی۔ صدام حسین کے بعد کردوں میں قوم پرستی کا بیج بونے میں امریکہ نے محنت کی ہے۔ کردش ورکر پارٹی سے ترکی 1980ء سے برسرپیکار ہے۔ ترکی نے ریفرنڈم کو امریکہ کی طرف سے اتحادی کو دباؤ میں رکھنے کی کاوش جانا جو ترکی اور امریکہ میں دوری بڑھانے کا سبب بن گیاہے۔ شمالی شام کے قصبے عفرین میں ترک و امریکی افواج چند کلو میٹر کی دوری پر ہیں اگر ٹکراؤ کی نوبت نہیں بھی آتی تب بھی دونوں ممالک کے دوستانہ مراسم میں واضح دراڑ آ گئی ہے۔ گزشتہ برس ہونے والی فوجی بغاوت کی سرپرستی کا الزام بھی ترکی امریکہ کو دیتا ہے لیکن چین دوست یا دشمن کے خلاف ایسی سازشوں سے اجتناب برتتا ہے۔
چین نے کچھ عرصہ پیشتر فوجی قوت بڑھانے پر دھیان دیا ہے لیکن امریکہ کی طرح جنون کا مظاہرہ نہیں کیا۔ روایتی اور جوہری ہتھیاروں کا امریکہ کے پاس دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے پھر بھی بے چین ہے اور ذخیرے میں نت نئے ہتھیار شامل کر رہا ہے۔ روس سے نمٹنے کے لیے چھوٹے جوہری ہتھیار بنانے کا امریکی اعلان دنیا میں جوہری دوڑ کے احیا کا موجب بن سکتا ہے حالانکہ روس نے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ کوئی امریکہ مخالف منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ یک طرفہ توڑ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ممکن ہے امریکہ کے پاس جواز ہو۔ لگتا ایسے ہی ہے کہ امریکہ تصوراتی دشمن کو تباہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے لیکن چین کی پالیسی میں ٹھہراؤ اور تحمل کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ بھارت سے جنگ ہونے کے باوجود لڑائی کی بڑھکوں سے پرہیز کرتا ہے اور بات چیت کی پالیسی پر چل رہا ہے۔شام میں امریکہ کے کوئی مفاد نہیں اگر بشار الاسد کی حکومت رہے یا نہ رہے امریکہ کوکوئی فرق نہیں پڑتا لیکن پانی اور ذرخیز زمین ہڑپ کرنے کے اسرائیلی منصوبہ کی تکمیل کے لیے وہ شام میں انسانی المیہ تخلیق کر رہا ہے۔ شامی کردوں کو مسلح کرنے کے لیے اسرائیل1970ء کے عشرے سے کوشاں ہے۔ یہ مداخلت کی پالیسی اْسے امریکہ نے سکھائی ہے تاکہ علاقے میں عدم استحکام پیدا کیا جائے۔ امریکی پالیسی ساز اگر جاننا چاہیں کہ لوگ امریکہ سے نفرت کیوں کرتے ہیں اور چین سے نفرت کیوں نہ ہونے کے برابر ہے؟ تب وہ جان پائیں گے کہ ہر جگہ مداخلت اور جارحیت کی پالیسی نے انہیں اِس مقام تک پہنچایا ہے لیکن چین بکھیڑوں میں نہیں الجھتا۔ وہ کسی دوست ملک کو دباؤ میں رکھنے کی نہیں بلکہ انفراسٹرکچر بہتر بنانے میں معاونت کرتا ہے۔ عدم مداخلت کی یہی پالیسی اْسے امریکہ پر سبقت دیتی ہے اور امن پسند ملکوں میں مقبولیت دلانے کا باعث ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!