Published From Aurangabad & Buldhana

امریکہ میں جزوی ’شٹ ڈاؤن ‘ کے بعد بجٹ منظور

سرکاری اخراجات کیلئے عبوری بِل پر اتفاق ، ۲۳ مارچ تک درکار اخراجات کی رقم حکومت کو فراہم

واشنگٹن :امریکی کانگریس نے جمعے کے روز مختصر دورانیے کا حکومتی کا شٹ ڈاؤن ختم کرنے کے لیے ایک بل کو منظور کرنے کے بعد دستخطوں کے لیے وہائٹ ہاؤس بھیجا تھا جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کر دئیے ہیں۔اس سے قبل وفاقی حکومت کو درکار فنڈز کی منظوری کی ڈیڈلائن گزرنے کے باوجود نیا بجٹ منظور نہ ہونے کے باعث امریکی حکومت ایک بار پھر جزوی شٹ ڈاؤن کا شکار ہو گئی تھی۔ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا موقع ہے جب امریکی حکومت کو شٹ ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے دوران بجٹ نہ ہونے کے سبب وفاقی حکومت کی معمول سرگرمیاں رک جاتی ہیں۔امریکی حکومت کو درکار فنڈز کی منظوری کی ڈیڈلائن جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ختم ہو رہی تھی لیکن سینیٹ میں مجوزہ بجٹ پر ہونے والی بحث کے دوران ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال کے اعتراضات کے باعث بجٹ، ۱۲ بجے شب کی ڈیڈ لائن سے قبل منظور نہ ہوسکا۔تاہم امریکی سینیٹ نے ڈیڈلائن گزرنے کے لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے بعد رات گئے سرکاری اخراجات کے عبوری بِل کو۲۸ کے مقابلے میں ۷۱ ووٹوں کی اکثریت سے منظور کرلیا جس کے بعد اسے منظوری کے لیے ایوانِ نمائندگان بھیجا گیا جس نے جمعے کو علی الصبح بِل کی کثرتِ رائے سے منظوری دیدی۔ ایوان کے۲۴۰ ارکان نے بِل کی حمایت جب کہ۱۸۶ ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ کانگریس کی جانب سے جمعے کو منظور کیے جانے والے بِل کے ذریعے ۲۳ مارچ تک حکومت کو درکار اخراجات کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔اس عرصے کے دوران قانون ساز ڈیموکریٹ اور ری پبلکن ارکان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی روشنی میں تفصیلی بجٹ تیار کریں گے جو۳۰ ستمبر کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام تک موثر ہوگا۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ اور ری پبلکن رہنماؤں کے درمیان بدھ کو مجوزہ بجٹ تجاویز پر اتفاقِ رائے ہوا تھا جس کے تحت امریکی حکومت کو آئندہ دو سال کے لیے دفاعی اور دیگر مدات میں اخراجات کے لیے درکار فنڈز فراہم کیے جانے تھے۔اتفاقِ رائے کی روشنی میں تیار کی جانے والی بجٹ تجاویز جمعرات کو سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کی گئیں لیکن سینیٹر رینڈ پال کے اعتراض کے باعث بجٹ تجاویز ڈیڈلائن سے قبل منظور نہ کی جاسکیں۔امریکی حکومت کو گزشتہ ماہ بھی تین دن کے شٹ ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد کانگریس نے آئندہ چند روز کے لیے عبوری فنڈز منظور کرتے ہوئے نئے بجٹ کی منظوری کے لیے۹ فروری کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!