Published From Aurangabad & Buldhana

القاعدہ کا ہندوستانی چیف عمر عاصم ہلاک، اتر پردیش کے سنبھل سے تھا رشتہ

بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا انڈیا انچارج عاصم عمر بالآخر اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ امریکہ اور افغانستان کے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران کی گئی ائیر اسٹرائیک میں عمر عاصم مارا گیا۔ اس بات کی تصدیق افغانستان کے نیشنل سیکورٹی ڈائریکٹوریٹ نے منگل کے روز کی ہے۔ عاصم کو القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کا قریبی تصور کیا جاتا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق عاصم عمر نے 2015 میں ویڈیو جاری کر کے امریکہ اور یو این او کو اسلام کا دشمن قرار دیتے ہوئے حملے کی دھمکی دی تھی۔


افغانستان کے نیشنل سیکورٹی ڈائریکٹر کے مطابق عاصم کو افغانستان کے موسیٰ کالا ضلع میں 23 ستمبر کو ہوئے ایک آپریشن میں مارا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عاصم عمر بنیادی طور پر اتر پردیش کے سنبھل ضلع کا رہنے والا تھا اور اس کا اصل نام ثناء الحق تھا۔ القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری نے 2014 میں ایک ویڈیو جاری کر عاصم عمر کو ہندوستان کا چیف قرار دیا تھا۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی جانچ میں یہ بات کافی پہلے سامنے آ چکی تھی کہ مولانا عاصم عمر ہندوستان کا ہی رہنے والا ہے۔ وہ اتر پردیش کے سنبھل ضلع کا رہنے والا تھا۔ ثناء الحق 90 کی دہائی میں گھر سے غائب ہو گیا تھا۔ بعد میں اس کے پاکستان میں ہونے کی جانکاری ملی تھی۔ 2016 میں دہلی پولس کی خصوصی سیل نے را کے ساتھ مل کر ہندوستان میں موجود القاعدہ کے کئی دہشت گردوں کو پکڑا تھا۔ ان سے پوچھ تاچھ میں بھی اس کی تصدیق ہوئی تھی کہ عاصم عمر ہی ثناء الحق ہے۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!