Published From Aurangabad & Buldhana

آزاد غزل

‎صائم الدین صدیقی


‎میرے بت کدے میں پڑی ہوئی ہیں لاشیں کئ
‎ان لاشوں کے بیچ میں تنہا اکیلا دم بخود
‎دیکھتا ہوں جہاں بھی نظر جاتی ہے میری
‎ان لاشوں کے انبار پر کتبے سجے
‎یہ تمام اپنی قبریں سجائے ہوئے
‎پاس میرے ہیں بیٹھے دیے جلایے ہوئے
‎مگر تم درازوں کی جھلکیوں سے جھانکتی
‎مجھ کو، گھر کو سنبھالے کی مذموم خواہش دیکھتی
‎میں ان کتبوں اور لاشوں کے انبار خانہ کے بیچ
‎کرم زدہ، سالخوردہ میخانہ کے بیچ
‎حالات میں لتھڑے ان دیوانوں کے بیچ
‎حلاکت زدہ شعلہ دانوں کے بیچ
‎بیٹھا تکتا ہوں تمام رات دن ان سبھی کو
‎بات کرتا ان سے، بوجتا ان سبھی کو
‎نہ پا سکی مکمل ہو نہ پا سکوگی مجھے
‎نہ چاہ سکی ہو نہ چاہ سکوگی مجھے
‎کتنا، کب تلک مجھ سے بچا سکوگی مجھے
‎دل کے کوزے میں کہاں چھپا سکو گی مجھے
‎نہ ہو سکا تمہارا نہ ہو سکوں گا کبھی
‎نہ ہوا میں اپنا، تمہارا کیا ہو سکوں گا کبھی

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!