Published From Aurangabad & Buldhana

افریقی جنگل کی ویڈیو میں آوازیں ڈب کرواکر حمایت باغ سے متعلق افواہیں سوشل میڈیا پروائرل, حمایت باغ میں طویل القامت اژدہے کا کوئی وجود نہیں

سوشل میڈیا کے نت نئے ایپس بھولی بھالی عوام کو گمراہ کرنے کا آسان ذریعہ بن گئے

* سیّد معراج علی کی رپورٹ

اورنگ آباد: سوشل میڈیا کی سہولت نے ایک طرف خبروں کی ترسیل کو آسان تر کردیا ہے تو دوسری جانب اس ذریعۂ ابلاغ سے کچھ شرارتی اور بددیانت لوگ من گھڑت باتیں اور افواہیں پھیلانے کا کام بھی کررہے ہیں۔ شرارت پسند افراد کی ان حرکتوں کی وجہ سے کئی مرتبہ امن و امان کو خطرہ بھی لاحق ہوجاتا ہے تو کبھی کچھ باتوں پر شکوک کے بادل بھی منڈلانے لگتے ہیں۔ موجودہ دور میں ہردوسرا شخص سوشل میڈیا کا استعمال کررہا ہے۔ لوگوں کی کثیر تعداد کے استعمال کی وجہ سے کئی مرتبہ اس پر ایسی باتیں اور خبریں وائرل ہوتی ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسی ہی ایک بے بنیاد غلط بات ان دنوں وہاٹس ایپ اور فیس بک پر تیزی سے وئرل ہورہی ہے۔ جس میں شہر کے تاریخی حمایت باغ میں کئی فٹ لمبا اور قوی اژدہا ایک درخت پر چڑھتا دکھایا جارہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ غلط اور بے بنیاد بات لاکھوں سوشل میڈیا (یوزرس) صارفین تک پہنچ گئی اور حمایت باغ میں آنے جانے والے لوگوں و شہریان میں ایک خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ واضح رہے کہ حمایت باغ گنجان آبادی دہلی گیٹ سے لگ کر ہی واقع ہے اور یہ کافی قدیم باغ ہے۔ اس باغ میں کئی سالوں سے شہریان کی آمد و رفت جاری ہے‘ اسی طرح شہریان کی ایک بڑی تعداد صحت کی برقراری کیلئے روزانہ باغ میں چہل قدمی (مارننگ اور ایوننگ واک) کیلئے آتی ہے‘ لیکن اس باغ میں کئی فٹ لمبا اژدہے کے وجود سے نہ تو یہاں آنے والے شہری اور نہ ہی یہاں ڈیوٹی پر مامور ملازمین و افسران واقف ہیں۔ پھر آخر کس نے اور کس مقصد سے اس طرح کی بے بنیاد بات سوشل میڈیا پر پھیلائی‘ یہ بات ہنوز ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں روزنامہ ایشیاء ایکسپریس کے نمائندے نے جب وائرل خبر سے متعلق حقائق جاننے کیلئے باغ میں کام کرنے والے مالی اور نگران کاروں سے ملاقات کی۔ باغ میں صفائی اور نگرانی کا کام کرنے والے ملازمین نے نمائندے کو بتایا کہ وہ برسوں سے یہاں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن حمایت باغ میں اس طرح طویل القامت اژدہا ہونے کی بات سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔ ملازمین نے بتایا کہ کسی بھی جنگل یا باغ میں سانپ‘ بچھو یا دیگر کوئی حیوان ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے‘ لیکن سوشل میڈیا پر جس قوی الجثہ اژدہے کی ویڈیو وائرل کی گئی ہے اس میں کوئی سچائی نہیں ہے اور اس طرح کا کوئی اژدہا حمایت باغ میں موجود نہیں ہے۔ باغ کا ایک مالی جو گذشتہ 35 سالوں سے باغ کی دیکھ ریکھ کررہا ہے نے بتایا کہ اُس نے 35 سالوں میں باغ میں کوئی اژدہا نہیں دیکھا‘ دیگر ملازمین نے بھی ویڈیو دیکھ کر اسے حمایت باغ کا ویڈیو نہ ہونے کی تصدیق کی۔ اس سلسلے میں نمائندے نے محکمہ جنگلات‘ محکمہ زمینات و وائلڈ لائف شعبے کے افسران سے بھی ربط کیا‘ لیکن افسران نے بھی اس خبر کی تصدیق نہیں کی اور اسے FAKE و شرارتی قسم کے لوگوں کے ذہن کی اپج بتلایا۔

وائرل ویڈیو کی حقیقت
اس سلسلے میں مختلف ذمہ داران سے ربط کے ساتھ ہی سوشل میڈیا و دیگر ذرائع کی مدد سے بھی وائرل ویڈیو کی حقیقت جاننے کی کوشش کی گئی۔ جس کے بعد یہ پتہ چلا کہ طویل لمبے چوڑے اژدہے کی جس ویڈیو کو حمایت باغ کا ویڈیو کہا جارہا ہے وہ دراصل افریقہ کے ایک جنگل ویڈیو ہے اور پورا ویڈیو دیکھنے پر ایک افریقی شخص مذکورہ اژدہے کا ویڈیو بنارہا ہے‘ لیکن موبائل و کمپیوٹر کی جانکاری رکھنے والے چند شرارتی قسم کے لوگوں نے عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے مختلف ایپس کا سہارا لیکر اس میں آوازیں ڈب کیں اور یہی افراد اسے حمایت باغ کا ویڈیو بتلارہے ہیں‘ جبکہ اس ویڈیو کا اورنگ آباد یا ہندوستان سے ہی کوئی تعلق نہیں ہے۔

سوشل میڈیا عوام کو گمراہ کرنے کا آسان اسٹیج
سوشل میڈیا کے کثرت سے استعمال اور نت نئے ایپس کی ایجاد نے آوازوں کی ڈبنگ‘ تصاویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور حادثات و واقعات کو خلط ملط کرنا بہت آسان کردیا ہے۔ ان آلات کا سہارا لیکر بھولی بھالی عوام کو آسانی سے بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن ان جدید آلات کا استعمال کرنے والے یوزرس (صارفین) ذرا سی احتیاط اور ہوشیاری سے ان دھوکہ بازوں و شاطر افراد کے ہتھکنڈوں سے بچ سکتے ہیں۔ وائرل ہوئی ہر خبر و تصویر پر یقین کرنے اور کوئی اقدام اٹھانے سے قبل اُس کا پتہ لگانا بھی صارفین کا فرض ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!