Published From Aurangabad & Buldhana

اسٹنگ میں دعوی : ہندوستان کے ٹیسٹ میچوں میں ہوئی تھی اسپاٹ فکسنگ ، پانچ کھلاڑیوں پر لگے الزامات

ایک اسٹنگ آپریشن میں دعوی کیا گیاہے کہ گزشتہ سال ہندوستا دورے پر آسٹریلیا اور انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ کی تھی۔ اس میں آسٹریلیا کے دو اور انگلینڈ کے تین کرکٹروں پر الزام عائد کیا گیا ہے۔ لیکن دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈ نے کوئی کارروائی کرنے سے پہلے آئی سی سی کی موجودہ جانچ کے پورا ہونے کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اسٹنگ الجزیرہ چینل نے کیا ہے اور جن میچوں پر سوال اٹھایا جارہا ہے وہ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان گالے میں 26 سے 29 جولائی 2017 تک ہوا ٹیسٹ ، ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان رانچی میں 16 سے 20 جولائی کو کھیلا گیا ٹیسٹ میچ اور ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان چنئی میں 16-20 دسمبر کے درمیان کھیلا گیا ٹیسٹ میچ شامل ہے۔ گالے اور چنئی میں ہوئے ٹیسٹ میچوں میں ہندوستان نے جیت درج کی تھی جبکہ رانچی ٹیسٹ ڈرا ہوگیا تھا۔

الزام ہے کہ فکسنگ کرنے والوں کے کہنے پر پچ ( ہندوستان بمقابلہ سری لنکا ) میں تبدیل کا اندیشہ ہے ۔ دیگر دو میچوں میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے کچھ کھلاڑیوں پر اسپاٹ فکسنگ میں شامل ہونے کے بھی الزامات لگائے گئے ہیں۔ حالانکہ کسی بھی طرح کے غلط کام میں کسی ہندوستانی کھلاڑی کا نام سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں ہندوستان کے ممبئی سے تعلق رکھنے والے سابق کرکٹر روبن مورس کا نام سامنے آیا ہے ، جس پر مبینہ طور پر میچ فکسر ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ٹی وی چینل کے دعوی پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بی سی سی آئی نے کہا کہ وہ آئی سی سی کی انسداد بدعنوانی یونٹ کے ساتھ کام کررہا ہے۔ بی سی سی آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایسی کوئی بھی سرگرمی یا کام کاج جس سے کھیل کا وقار مجروح ہو یا کھیل کی ایمانداری پر سوال اٹھے ، اس کے تئیں بی سی سی آئی کا رویہ زیرو ٹولرینس کا کہا ہے۔ ٹی وی چینل کے مبینہ الزامات پر بی سی سی آئی کی انسداد بدعنوانی یونٹ آئی سی سی کی انسداد بدعنوانی یونٹ کے ساتھ کام کررہی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!