Published From Aurangabad & Buldhana

احمد بخاری نے بدلا فیصلہ، اب وہ بھی 23 کو نہیں 22 کو پڑھیں گے عیدالاضحیٰ کی نماز

16 اگست کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی جامع مسجد، دہلی کی ایک ہنگامی میٹنگ ہوئی جس میں سابقہ فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے 29 کی رویت تسلیم کی گئی اور عیدالاضحیٰ کی نماز 22 اگست کو ادا کرنے کا اعلان کیا گیا۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی جامع مسجد دہلی نے 30 کی رویت تسلیم کرتے ہوئے 23 اگست کو عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کیے جانے کا اعلان کیا تھا جب کہ ہندوستان کی بیشتر ہلال کمیٹیوں اور مسلم اداروں نے 22 کو نماز ادائیگی کا اعلان کیا تھا۔ سید احمد بخاری کی صدارت میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی جامع مسجد دہلی کے ذریعہ 30 کی رویت تسلیم کیے جانے کے بعد مسلم طبقہ میں ایک ہنگامی کیفیت پیدا ہو گئی تھی اور مسلم طبقہ، خصوصاً دہلی میں موجود مسلمان اس کشمکش میں پڑ گئے تھے کہ نماز 22 اگست کو پڑھیں یا 23 اگست کو۔ لیکن اب ان کی کشمکش دور ہو گئی ہے کیونکہ سید احمد بخاری نے بھی اپنا فیصلہ بدلتے ہوئے 23 کی جگہ 22 کو عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

دراصل آج یعنی 16 اگست کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی، جامع مسجد کی ایک ہنگامی میٹنگ ہوئی جس میں سابقہ فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے 29 کی رویت تسلیم کی گئی۔ میٹنگ کے بعد جاری پریس ریلیز میں جامع مسجد کے شاہی امام اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے صدر سید احمد بخاری کے دستخط سے لکھا گیا ہے کہ ’’مرکزی رویت ہلال کمیٹی جامع مسجد دہلی نے 30 کی رویت تسلیم کی تھی لیکن ہندوستان کے مختلف شہروں سے رویت کی شہادتیں موصول ہوئی ہیں، جس میں اندور، سیندوا (ایم پی)، مالدہ (مغربی بنگال)، مالیگاؤں، ممبئی (مہاراشٹر)، مدورائی، چنئی (تمل ناڈو)، اس کے علاوہ جنک پور (نیپال) سے بھی شہادتیں ملی ہیں۔ نیز ہندوستان کی مختلف رویت ہلال کمیٹیوں کے قاضی حضرات نے بھی اپنے اپنے شہروں سے رویت کی تصدیق کی ہے۔‘‘

ان باتوں کو لکھنے کے بعد سابقہ فیصلہ منسوخ کرنے سے متعلق پریس ریلیز میں لکھا گیا ہے کہ ’’آج مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا اور مذکورہ بالا شہادتوں کی بنیاد پر سابقہ فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے 29 کی رویت تسلیم کی۔ لہٰذا اعلان کیا جاتا ہے کہ عیدالاضحیٰ انشاء اللہ 22 اگست 2018 بدھ کے روز ہوگی۔‘‘

اللہ کا شکر ہے کہ موقع عیدالاضحیٰ کا تھا اور سید احمد بخاری کو اپنی اصلاح کرنے کا موقع مل گیا، اگر یہ عید الفطر کا موقع ہوتا تو یقیناً مسلم طبقہ منقسم و منتشر نظر آتا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!