Published From Aurangabad & Buldhana

اجودھیا تنازع : انتظار کی گھڑیاں مزید بڑھیں ، اگلی سماعت 27 اپریل کو

نئی دہلی: اجودھیا اراضی تنازع پر الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر اعتراضات کو جہاں التوا میں پڑے آٹھ سال ہورہے ہیں وہیں سپریم کورٹ نے انتظار کے دن بڑھاتے ہوئے سماعت کی اگلی تاریخ 27 اپریل مقرر کردی ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے 2010 میں اجودھیا کی متازعہ ملکیت پر اپنے ایک فیصلے میں دو اعشاریہ 77 ایکڑ زمین کو رام للا ، سنی وقف بورڈ اور نرموہی اکھاڑہ میں مساوی طور پر تقسیم ردیا تھا۔

چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی سربراہی میں ایک سہ رکنی بنچ نے سنی وقف بورڈ اور دوسرے مسلم گروپوں سے آج کہا کہ وہ 27 اپریل کو اپنی بحث کی تجدید کریں کہ معاملے کو عدالت عظمیٰ کی ایک وسیع تر مجلس کے حوالے کیوں نہ کردیا جائے ۔جسٹس اے ایم کھانولکر اور ڈی وائی چندر چڈ بھی شامل بنچ تھے۔

عدالت نے کہا کہ راجیو دھون کے علاوہ دیگر فریقین کی باتیں سننے کے بعد ہی معاملے کو وسیع تر بنچ کے حوالے کیا جائے گا۔دھون کا اسرار تھا کہ معاملے کو لگے ہاتھوں ایک وسیع تر عدالتی مجلس کے حوالے کردیا جائے ۔ سپریم کورٹ نے قبل ازیں 14 مارچ کو 32 اہم لوگوں کی اس سلسلے کی عرضیاں مسترد کردیں تھیں ۔ یہ لوگ متنازعہ رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد کیس پر بحث کرنا چاہتے تھے ۔ ان لوگوں میں شیام بینگل، اپرنا سین ، انل دھڑکر اور تیستا سیتلواڑ شامل تھیں ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!