Published From Aurangabad & Buldhana

اترپردیش بلدیاتی انتخابات میں کیسے چلا ای وی ایم کا جادو؟

اترپردیش بلدیاتی ا نتخابات میں حکمراں جماعت بی جے پی کو ایک بار پھر تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ریاست کی 16 میونسپل کارپوریشن میں سے 14 پر اس کا قبضہ ہوگیا ہے اور میرٹھ و علی گڑھ بی ایس پی کے حصہ میں آ گئے، جبکہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔جمعہ کی صبح جب ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو سب سے پہلا نتیجہ اجودھیا ، فیض آباد میونسپل کارپوریشن کا آیا جہاں بی جے پی کا امیدار 3 ہزار ووٹوں سے کامیاب ہوا ۔سوال یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب نو ٹ منسوخی اور جی ایس ٹی کے نفاذ کی وجہ سے ہر روز بڑ ھتی ہوئی مہنگا ئی نے متوسط طبقہ اور حاشیہ پر کھڑا ہو ا جن مانس کی کمر توڑ کر ر کھ دی ہے ،جہاں رسوئی گیس جیسی روز مرہ ضرورت کی چیز یں قوت خرید سے باہر ہوتی جارہی ہے ۔پٹرولیم مصنو عا ت کی قیمت میں ہوش ربا بڑھوتری نے نقل وحمل کے سارے ہی نظام کو عام ہندوستا نیوں کے نا قا بل برداشت مصیبت بنا کر رکھ دیا ہے۔خورد نی اشیاء کی قیمتوں میں اچھا ل نے غریب ہندوستا نیوں ،غیر منظم شعبہ کے مزدوروں اور ملازموں کے چو لہوں کو سرد کرنا شروع کردیا ہے۔جبکہ حکومت کے نت نئے فیصلوں اور منصوبوں کی وجہ سے لگاتار بڑھ رہی بے روزگاری بچی کھچی کسر تھوک کے بھاو میں نکال رہی ہے ۔یہ تمام تر حالات گزشتہ تین ساڑھے تین برسوں میں پیدا ہوئے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت کی کار کردگی سے دوردورتک ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ بے روز گاری اور کمر توڑ مہنگائی کی فکر ہمارے سیاسی رہنماؤں کو ہے جنہیں تھوک میں ووٹ دے کر ہم نے ملک کا اقتدار سونپا تھا وہ ہماری تکالیف کو ہم سے زیادہ سمجھتے ہوں گے،لہذا وہ عام ہندوستا نیوں کو مہنگائی کے عذاب میں گھٹ گھٹ کر مر نے نہیں دیں گے۔ مگر عملی طور پر دیکھئے تو ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے، بلکہ معا ملہ اس کے با لکل بر عکس ہوتا جا رہا ہے۔حکومت کے منصوبوں اور نئے نئے فیصلوں سے لگاتار امیر امیر ہوتا جارہا ہے ،جبکہ غریب کی حالت اور زیادہ بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ان تما م صورت حال کے باوجود اگر اتر پردیش کے بلدیا تی انتخابات میں دایاں بازو کامیاب ہوتا ہے تو کئی قسم کے پیچیدہ سوال اٹھنے لازمی ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے عوام اپنی بھوک پیاس،زندگی گزارنے کی اہم ضروریات ،دوا علاج، تعلیم اور روزگار وغیرہ کے مواقع کوضروری سمجھنا چھوڑ کر انہوں نے خالص مذہب کے نام پر اپنی قسمت کو گروی رکھ دینے اور جمہوریت کو ٹھینگا دکھا نے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اگر اس کا جواب ’ہاں ‘ میں ہے تو یاد رکھئے کہ آ نے والا وقت اس سے بھی زیادہ تباہ کن ہوگا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ جب سرکار کی کارپوریٹ نواز پالیسی نے عام آ دمی کی زندگی دوبھر کردی ہے پھر تو عوام کے ووٹ اسے توقع سے کا فی کم ملے ہو ں گے ،اس صورت میں دایاں محاذ کو راست طور شکست سے دوچار ہونا چاہئے ،تو کیا بی جے پی کو عام بلدیا تی انتخابات میں ای وی ایم نے جیت دلائی ہے؟اس کا ثبوت بلدیا تی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران ہی کئی پولنگ مراکز پر سامنے آ گیا تھا جہاں رائے دہند گان کسی دوسری پارٹی کے امیدو ارکا بٹن دبا رہے تھے مگر سارے ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں ہی جا رہے تھے۔ انتخابی عمل میں شامل سرکاری عملوں اور ساری مشنریز کیخلاف ہنگامے بھی ہوئے ،لوگوں کی زبان بند کردینے کیلئے پولیس کا بھر پوراستعمال کیا گیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان حالات میں انتخابی کمیشن پر سوال اٹھنے لازمی ہیں،جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ سماجوادی پارٹی سر بر ا ہ اور ریاست کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ ای وی ایم کی بدولت ہی ایسا ہوا ہے۔یعنی یہ جیت عوام نے نہیں دی ہے ،بلکہ یہ مشینی جیت ہے ۔ انہوں نے کچھ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کوای وی ایم کی وجہ سے کامیابی ملی ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ’یوپی میں بلدیاتی انتخابات میں میئر کی کل 16 سیٹوں میں سے 14 سیٹوں میں بی جے پی نے ،جبکہ 2 پر بی ایس پی نے کامیابی حاصل کی ہے، وہیں کانگریس اور سماج وادی پارٹی نے یہاں کوئی جیت نہیں حاصل کی، اس کے برخلاف بیلٹ پیپر سے جن علاقوں میں ووٹنگ ہوئی ہے وہاں بی جے پی کی جیت کا فیصد 15 ہے، وہیں وی ایم سے جہاں جہاں ووٹنگ ہوئی ہے وہاں بی جے پی کی جیت کا فیصد46ہے۔ اس کے علاوہ گجرات کے سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ نے بھی کچھ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ای وی ایم کے سہارے ہی بی جے پی نے یہ الیکشن جیتا ہے۔انہوں نے فیس بک پر ایک پوسٹ بھی شیئرکیا ہے ،جس میں دعویٰ کیا ہے کہ میئر کی 16 میں سے 14 سیٹوں پر بی جے پی نے قبضہ کیا، وہیں 2 سیٹوں پر اسے شکست ملی۔واضح رہے کہ میئر کے انتخابات ای وی ایم کے ذریعہ کرائے گئے تھے ۔ وہیں نگر پنچایت صدر کی 437 نشستوں کے نتائج بھی آئے ہیں،جہاں بیلیٹ پیپر سے ووٹنگ ہوئی تھی، جس میں بی جے پی نے 100 سیٹیں جیتیں وہیں 337 سیٹیں ہارگئی۔ نگر پنچایت رکن کی 5390 نشستوں کے نتائج کا اعلان بھی کیا گیا اس کے لئے بھی بیلیٹ پیپر سے ووٹنگ کرائی گئی تھی، اس میں بی جے پی نے 662 سیٹیں جیتیں ،جبکہ 4728 سیٹیں ہارگئی۔ میونسپلٹی کونسل صدر کیلئے بھی بیلیٹ پیپر سے الیکشن ہوئے، اس میں 195 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 68 سیٹیں جیتیں ، وہیں 127 سیٹوں پر اسے منہ کی کھانی پڑی۔خیال رہے کہ میونسپل کونسل رکن کے لئے بھی بیلیٹ پیپر کے ذریعے ہی ووٹ ڈالے گئے تھے۔یہاں 5217 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 914 سیٹیں جیتیں جبکہ 4303 سیٹوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ان اعداد وشمار کے بعد یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے کہ ای وی ایم جمہوری نظام کیلئے کس قدر سنگین اور تشویشناک ہے۔قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کو صرف شہری علاقوں میں کامیابی ملی ہے جہاں اس کا اثر تھاجبکہ ضلع کے ٹاؤن ایریا کی سیٹیں سماج وادی پارٹی کے پاس چلی گئیں ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام میں بی جے پی کی مقبولیت کا گراف نیچے جارہا ہے ۔اجودھیا کے علاوہ بی جے پی نے جن دیگر کارپوریشنز میں میئر کے عہدے پر قبضہ کیا ہے ان میں لکھنؤ، بنارس، الٰہ آباد، بریلی، گورکھپور، کانپور ، غازی آباد، جھانسی، مرادآباد، آگرہ، فیروزآباد، سہارنپور اورمتھرا شامل ہیں۔بہر حا ل حالیہ انتخابات کے نتا ئج سا منے آ نے کے بعد ای وی ایم (الیکٹرانک ووٹنگ مشین)کی کار کردگی ایک بار پھر سوا لوں کے گھیرے میں آ گئی ہے۔ ای وی ایم میں دھاندلی کا ایک پختہ ثبور سہارن پور میں بھی سامنے آ یا ہے۔جہاں ایک آزاد امیدوار کا الزام ہے کے اسے ایک بھی ووٹ نہیں ملا ہے، جبکہ دیگر لوگوں نے نہ سہی لیکن ان کا اور ان کے خاندان کا ووٹ تو انہیں ملناہی چاہئے تھا۔ سہاراپور سے آزاد امیدوار کا دعویٰ ہے کہ انہیں صفر ووٹ ملاہے۔ای وی ایم پر سوال اٹھاتے ہوئے وارڈ نمبر 54 سے امیدوار شبانہ کا کہنا ہے کہ انہیں ایک بھی ووٹ نہ ملنے والی بات انہیں ووٹوں کی گنتی سے معلوم ہوئی ۔شبانہ کہتی ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ خود میں نے اور میرے خاوند اور دیگر قریبی رشتے داروں نے بھی ووٹ یے ہیں پھر بھی مجھے صفر ووٹ کیسے ملے ۔مجھے تقریباً900 ووٹ ملنے کی قوی امید تھی ، لیکن رائے شماری سے پتہ چلا کہ میرے اکاؤنٹ میں ایک بھی ووٹ نہیں آیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کی ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے، کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کم از کم میرا ووٹ تو مجھے ملنا ہی چاہئے تھا۔خیال رہے کہ مشینی ووٹنگ میں دھوکہ دھڑی کایہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جب ای وی ایم کی ساکھ پر سوال اٹھا یا گیا ہے۔ اس سے پہلے کانپور کے وارڈ نمبر 66 میں بھی ووٹنگ کے دوران ای وی ایم میں گڑبڑ ی ہونے کی بات سامنے آئی تھی، جس کے بعد مقامی لوگوں نے خوب ہنگامہ کیا تھا۔جمہوریت کا مذا ق اڑانے اور انتخابی عمل کو شرمسار کردینے والی اس بد عنوانی پر زبان کھولنے والوں کیخلاف یوگی انتظا میہ نے ظلم کی ساری حدیں پار کردیں ۔ای وی ایم گھوٹالہ پر سوال اٹھانے والوں کی زبان کاٹ لینے کی کوشش کی گئی ۔ مظا ہر ہ کرنے والوں پر پولیس نے بھرپور طاقت کا استعمال کیا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ جمہو ریت کا گلا گھوٹنے کیلئے مقامی حکومت نے پولیس فورس سے عوام اور جمہو ریت کے محافظ کی بجائے غنڈوں اور پیشہ ور شر پسندوں کا کام لیا۔ وہیں کانپور کے دیگر وارڈ وں سے بھی ای وی ایم میں دھا ندلی کے ثبوت ملے اور ویڈیو کلپس کے ذریعہ سارے ملک تک ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کے معاملے کو پہنچا یا گیا ۔ وہاں رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ووٹ کسی دوسری پارٹی کو ووٹ ڈال رہے تھے مگر سارے ووٹ ڈائریکٹ بی جے پی کے کھاتے میں جا رہے تھے ۔ اب یہ ذمہ داری ان سیاسی جماعتوں اور ہارے ہوئے امیدواروں کی ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت عظمیٰ میں لے کر جائیں ۔اس لئے یہاں راست طور پر مدعاعلیہ انتخابی کمیشن اور سرکاری سسٹم ہے ۔مگر انتخابی کمیشن کی کارکردگی پر اروندکجریوال ،مایا وتی ،ممتا بنرجی اور سیکڑوں سینئر لیڈران سوال اٹھاچکے ہیں ،لہذا اب عدالت ہی ایک آخری راستہ باقی رہ گیا ہے، جہاں سے انتخابات میں شفافیت لانے کی کچھ امید کی جاسکتی ہے،ورنہ اگر صرف شوروغوغا ہوتا رہا تو پانی سر سے اور انچاہوتا جائے گا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!