Published From Aurangabad & Buldhana

اب کبھی بھی این ڈی اے کا ساتھی نہیں بنوں گا ، وزیر اعظم دفتر داغدار پارٹیوں کو بڑھاوا دے رہا ہے : نائیڈو

نئی دہلی : آندھرپردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو نے مرکزی حکومت پر تیکھا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب کبھی بھی این ڈی اے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ نیوز 18 کے ساتھ ایک خاص بات چیت میں نائیڈو نے کہا کہ وزیر اعظم کا دفتر داغدار پارٹیوں کو آگے بڑھارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کام کاج کی تو سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھی تعریف کی تھی ۔

قابل ذکر ہے کہ آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ نہیں دئے جانے سے ناراض ہوکر کچھ دنوں قبل چندر بابو نائیڈو کی تیلگو دیشم پارٹی نے این ڈی اے سے ناطہ توڑ لیا تھا ۔ این ڈی اے سے الگ ہونے کے بعد رواں ہفتہ انہوں نے دہلی میں کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے ملاقات کی اور ان کے مطالبہ کی حمایت کی اپیل کی۔

سوال : حال ہی میں ریلوے کے وزیر پیوش گوئل نے الزام لگایا ہے کہ نائیڈو حکومت مرکز کی جانب سے دئے گئے پیسوں کا حساب دینے سے کترارہی ہے؟۔

جواب : سب سے ایماندار حکومت چلانے کا میرا 40 سال کا ٹریک ریکارڈ ہے ، کسی اپوزیشن پارٹی یا ناقد نے ابھی تک ایسے الزامات عائد نہیں کئے ہیں، کل تک میں ان کے ساتھ تھا تو میں ٹھیک تھا ، لیکن جب میں اپنی ریاست کے حقوق کا مطالبہ کررہا تو آپ کیچڑ اچھال رہے ہیں۔

سوال : الزام یہ ہے کہ آپ اپنی مقبولیت میں کمی کے تئیں فکر مند ہیں ، اس لئے آپ خصوصی ریاست کے درجہ کا معاملہ اٹھارہے ہیں اور دوسری طرف جگن موہن ریڈی کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے؟۔

جواب : میں جگن موہن ریڈی یا داغدار پارٹیوں کو لے کر فکر مند نہیں ہوں ، یہ حکومت داغدار سیاسی پارٹیوں کو فروغ دے رہی ہے یہاں تک کہ ملزم ایک اور ملزم دو ( جنگ موہن ریڈی کے خلاف معاملات میں ) پی ایم او میں بیٹھے ہیں ، وہ اس سے کیا اشارہ دینا چاہتے ہیں؟ یہ معاملہ تقریبا 43000 کروڑ روپے کی جعل سازی یا بدعنوانی کا ہے ، جس میں تقریبا 11 چارج شیٹ داخل کی گئی ہیں۔ ہر جمعہ کو انہیں عدالت کے سامنے پیش ہونا ہوتا ہے ۔

سوال : نائیڈو اور مودی کے درمیان ایسا کیا ہوا تھا کہ ٹی ڈی پی کو این ڈی اے چھوڑنی پڑی ؟۔

جواب :آپ داغدار پارٹیوں سے حمایت لے رہے ہیں ، آپ ان کی حمایت لیتے ہیں ، اس سے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے ، لیکن آپ مجھے اور میری ریاست کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں۔

سوال : کیا آپ یا ممتا بنرجی وفاقی محاذ کا قائد بننا چاہیں گے ؟

جواب : اس حکومت نے ٹیم انڈیا کے بارے میں بات کی تھی ۔ کوآپریٹو فیڈرلزم ایک حقیقت ہے ۔ آپ ریاستی حکومت کو قصور وار قرار دے رہے ہیں ، آپ مجھ پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ؟ کیا یہ وفاقی اتحاد ہے ؟ پارٹی بنانے کیلئے ان کی کچھ خواہشات ہوسکتی ہیں ، لیکن وہ علاقائی قیادت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں۔

سوال : متبادل محاذ میں کانگریس کا رول کیا ہے ؟

جواب : سیاسی تبدیلی میں کچھ وقت تو بہت کچھ ہوگا ، میں نے قومی محاذ ، مشترکہ محاذ ، یو پی اے ، این ڈی اے کو دیکھا ہے ، میں ہمیشہ ترقی اور ملک کی تعمیر چاہتا ہوں ، میں نے حیدرآباد کو فروغ دیا ، 2004 کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جب امریکہ گئے تھے ، انہوں نے وہاں کہا کہ ہم شہروں کی تعمیر کررہے ہیں ، آئیے اور حیدرآباد یکھئے ، یہ سب کس نے کیا ؟ جو بھی کچھ میں نے کیا اس میں انہیں فخر محسوس ہوا ۔

سوال : کانگریس آپ کی دشمن ہے یا دوست ؟

جواب : میرا نہ ہی کوئی دشمن ہے اور نہ ہی کوئی دوست ، سیاست میں ہم کبھی کبھی الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ نظریات کے حامل افراد سے لڑتے ہیں ، ہم گزشتہ کئی سالوں تک کانگریس سے لڑے ، 2014 کے بعد آندھرا پردیش میں کانگریس کا کچھ خاص اثر نہیںہے اور بی جے پی کبھی بھی ایک طاقت نہیں بن سکی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!