Published From Aurangabad & Buldhana

اب تیرا کیا ہوگا رے روشن

ڈاکٹر سلیم خان

للن پاشا سے کلن گوڑا نے پوچھا اب اس روشن بیگ کیا ہوگا ؟
کیوں ! اس کا بیگ تو ہمیشہ سے روشن رہا ہے بلکہ آج کل اس کی روشنی اندر سما نہیں پارہی اس لیے باہر پھوٹ رہی ہے۔
کلن بولا پھولا نہ سمانا اور اس کی ضد پھوٹ پھوٹ کر رونا تو سنا تھا لیکن تم نے تو دونوں کو یکجا کرکے کمال کردیا ۔
جی ہاں تمہارا روشن بیگ بھی فی الحال مجموعہ ضدینّ بنا ہوا ہے؟
اتنی مشکل میری سمجھ میں آتی للن پاشا تو میں بھی تمہاری طرح شاعر ہوتا۔
ارے بھائی وہی بیم و رجا کی حالت میں ہے ۔
کلن نے پوچھا یہ کیا ہوتا ہے؟ تم تو پہیلیاں بھجوانے لگے ۔
چلو آسان کیے دیتے ہیں کیا تم نے وہ قوالی تو سنی ہی ہوگی ’میں اِدھر جاوں یا اُدھر جاوں ۔ بڑی مشکل میں ہوں میں کدھر جاوں ‘۔ بس وہی سمجھ لو
لیکن مجھے تو لگتا ہے آج کل وہ چوراہے پر کھڑے ہیں اور جدھر مرضی ہے جاسکتے ہیں ۔
اسی لیے تو سارا کنفیوژن ہے۔ انسان کااگر ایک رخ طے کرلے تو سکون میں آجاتا ہے ورنہ چکراتا رہتا ہے ۔
لیکن اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ فی الحال اس کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں ۔
انگلیاں تو گھی میں ہیں لیکن سر ؟ اس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا کہ وہ گرم گرم کڑھائی میں ہے۔
وہ کیوں؟ تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟
بھائی ایسا ہے کہ جب کوئی مسلمان بی جے پی میں جا تا ہے تو اس کا یہی حال ہوتا ہے ۔
کیوں ! ایسا کیوں؟ مسلمان تو ہر جماعت میں ہیں ۔ کانگریس ہویا اور اس کی مخالف ترنمل ،ایس پی ہو یا اس کے خلاف لڑنے والی بی ایس پی ، ڈی ایم کے اور اس کےخون کی پیاسی اے آئی ڈی ایم کے بلکہ مسلم لیگ اور اس کی دشمن سی پی ایم میں بھی مسلمان براجمان ہیں ۔
ہاں ہاں وہ تو ہے لیکن تم کہنا کیا چاہتے ہو؟
یہی کہ جب ہر پارٹی میں مسلمان ہیں تو بی جے پی میں کیوں نہیں ؟
یہ سوال تو تم کو بی جے پی والوں سے کرویا پھر ان کی حرکتیں دیکھو۔ مسلم دشمنی ان کی مجبوری ہے اس لیے ان سے دشمنی مسلمانوں کا ردعمل ہے۔
ردعمل تو سمجھ میں آتا ہے لیکن مجبوری سمجھ میں نہیں آتی ؟
ارے بھائی کلن جس عوام کے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر گھول کر یہ لوگ اقتدار میں آئے ہیں ان کو ناراض بھی تو نہیں کرسکتے ۔
اچھا ! اب سمجھ میں آیا کہ وہ روشن بیگ کو اپنی پارٹی کے اندر شامل کرنے میں پس و پیش کیوں کررہے ہیں؟
جی ہاں ایک آدمی کے لیے لاکھوں ووٹرس کو ناراض کردینا فائدے کا نہیں گھاٹے کا سودہ ہے اور بی جے پی کو فی الحال حساب کتاب میں پکا بنیا چلا رہا ہے۔
لیکن بی جے پی میں مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین جیسے مسلمان بھی تو موجود ہیں ۔
ایسا ہے کہ انہوں نے کبھی بی جے پی کی مخالفت نہیں کی۔ اس کے ہر غلط کام کی تائید کی لیکن روشن بیگ نےان کو گالی دے کر اپنا مستقبل روشن کیا تھا ۔
تب تو اس بیچارے کا مستقبل تاریک ہوگیا ۔ اب سمجھ میں آیا کہ اس کو بی جے پی نے اپنی پارٹی میں کیوں شامل نہیں کیا لیکن وہ الیکشن کیسے لڑے گا؟
میرا خیال ہے کہ اگر وہ شیواجی نگر سے آزاد امیدوار کے طور پر کھڑا ہوجائے تواس میں اس کی بھلائی ہے۔
لیکن جیتے گا کیسے؟ ضمنی انتخاب میں چونکہ سرکار کا وجود داوں پر لگا ہوا ہے اس لیے ساری جماعتیں ، سام دام دنڈ بھید کا استعمال کرکے اس کو ہرادیں گی ۔
جی نہیں یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس اگر اس کے سامنے کوئی کمزور امیدوار میدان میں اتار کر ا سکے لیے ااسانی پیدا کردے۔
کلن نے حیرت سے کہا بی جے پی کا کمزور امیدوار تو روشن کی غداری کامعاوضہ ہوگا لیکن کانگریس کا دبلا امیدوار سمجھ میں آتا؟
ارے بھائی اگر دونوں کے ووٹ سے یہ جیت جائے تو پھر روشن بیگ اپنا بیگ روشن کرنے کے لیے پھر سے سوچے گا کہ میں اِدھر جاوں یا اُدھر جاوں ۔
تو کیا کانگریس اس کو دوبارہ اپنے گھر میں لے لے گی ؟
کیوں نہیں ۔ بی جے پی کے اگر۶ ارکان نہیں جیت سکے تو یدورپاّ کی سرکار گرانے کے لیے کانگریس خوشی خوشی اس کی گھر واپسی کروالے گی ؟
تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ جس نے سرکار بنائی وہی سرکار گرائے گا؟
کیوں نہیں اصل مقصد تو بیگ روشن کرنا ہے۔ یہ مقصداگرسرکار گرانے سے حاصل ہوتو گرادی جائے اور بنانے سے تو بنادی جائے ۔ کیا فرق پڑتا ہے؟
کلن کچھ سوچ کر بولا جی ہاں للن جب کسی کی سرکار گرتی ہے تو کسی بنتی بھی تو ہے لیکن تمہارے شیواجی نگر مسلمان کیا کریں گے؟
للن بولا یہ تو میں نہیں جانتا لیکن مجھے جوکرنا ہے یہ میں طے کرچکا ہوں ۔
اچھا یہی بتا دو کہ تم کیا کروگے؟
میں تو اپنی چپل سے حساب کتاب درست کردوں گاَ۔
کہیں تم نےروشن بیگ کو جوتا مارنے کا ارادہ تو نہیں کرلیا ؟ ایسی حماقت مت کرنا ورنہ تمہیں جیل سے چھڑانے کے لیے مجھے پریشان ہونا پڑے گا۔
ارے نہیں بھائی ۔ میں گاندھی جی کے طریقہ پر جمہوری انداز میں احتجاج کروں گا۔
لیکن اس میں چپل کا کیا کام ؟
بھائی کلن اگر کانگریس اور بی جے پی نے واقعی روشن بیگ کو پھر سے کا میاب کرنے کی خفیہ سازش رچی تو میں ان سب بوگس میں سے کسی کو ووٹ دینے کے بجائے ای وی ایم مشین پر اپنی چپل کی مہر لگا کر لوٹ آوں گا۔
نوٹا(NOTA) کے اس انوکھے استعمال کی تجویز سن کر کلن گوڑا حیرت سے للن پاشا کا منہ تکنے لگا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!