Published From Aurangabad & Buldhana

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے

17 فروری کو جالنہ میں خواتین کا احتجاج و مورچہ

جالنہ (محمد اظہر فاضل) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ملک کے تیس کروڑ مسلمانوں کی آواز اور تمام مسالک و مکاتب فکر کے نمائندوں کا متحدہ پلیٹ فارم ہے ۔جس نے گزشتہ ربع صدی میں مسلم پرسنل لاء اور شریعت اسلامیہ کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔اس لئے بورڈ کو ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں بھی کہا جاتا ہے ۔گزشتہ ربع صدی میں جب بھی شریعت اسلامیہ پر یلغار ہوئی یا اسلامی قوانین میں ترمیم و تبدیلی کی مذموم کوشش کی گئی ۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے پوری جرأت اور ہمت سے ان کوششو ں کا مقابلہ کیا اور جمہوری طریقہ پر جدو جہد کرتے ہوئے انھیں ناکام بنا دیا ۔تحفظ شریعت کی راہ میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے بورڈ کا یہ طریقہ کار رہا ہے کہ بورڈ نے اپنی کوششوں کے تین طریقے اختیار کئے ایک جمہوری بیداری دوسرا حکومتی ذمہ داروں کو متوجہ کرنا اور تیسرا دستور کے حوالے سے عدالت سے رجوع کرنا چنانچہ شریعت اسلامی کے کسی بھی معاملے میں مداخلت کی آواز جب بھی کسی طرف سے اٹھائی گئی تو ان تین پہلوؤں میں سے جس پہلو کو مفید سمجھا گیا اختیار کیا گیا ۔اور جمہوری بیداری کے ذریعہ بھی مطالبہ میں اثر پیدا کیا گیا ۔اس کے اثر سے مسلمانوں کی متحدہ آوازسامنے آئی اور حکومت کے ذمہ داروں کو مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ کرایا گیا اور ضرورت پڑنے پر کورٹ سے رجوع کیا گیا اور کورٹ کی جانب سے کوئی مدد نہیں ملی تو دستور سازی کے ذمہ داران کو متوجہ کیا گیا ۔چنانچہ اس کا فائدہ ہوا اور ایک اہم مسئلہ میں حکومت وقت کی طرف سے پارلیمنٹ میں قانون بنوانے کی کوشش میں کامیابی ملی جس سے شریعت اسلامی اور مسلمانوں کے مطلوب حق کا تحفظ ہوا ۔۲۰۱۴ ؁ میں مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ہی سے مسلمانان ہند کے اسلامی تشخص اور ایمانی وجود پر ہر روز ایک نئی جہت سے یلغار کی جا رہی ہے ۔حال ہی میں ۲۸ جنوری ۲۰۱۸ ؁ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران حکومت نے صدر جمہوریہ کی زبان سے یہ بھی کہلوادیا کہ کئی دہائیوں سے مسلم خواتین کا وقار اور ان کے مفادات پرسنل لاء کے قوانین میں محفوظ نہیں ہیں اب قوم کو انھیں آزادی دلانے کا ایک موقع ملا ہے ۔میری حکومت نے تین طلاق کا بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے مجھے امید ہیکہ پارلیمنٹ اس قانون کو جلد ہی پاس کر دے گی ۔بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے ملک میں پھیلے ہوئے بورڈ کے مختلف مسالک اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے تمام ہی اراکین اور متعلقین کو خط لکھ کر حالات کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے لکھا کہ آپ اندازہ کر سکتے ہے کہ یہ جملے کس ذہانت کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ان جملوں میں اسلامی شریعت پر براہ راست حملہ کیا گیا ہے جس نے دنیا میں سب سے پہلے عورتوں کو معاشرے میں معزز اور محترم مقام عطا کیا بلکہ سچی بات یہ ہیکہ ان جملوں میں ہی مری بہنوں اور بیٹیوں کو شریعت کے خلاف اکسانے کی نہایت مذموم کوشش کی گئی ہے۔ہمارا احساس ہیکہ اس موقع پر خاموش رہنا عائلی خود کشی کے مترادف ہوگااس لئے ضروری معلوم ہوتا ہیکہ خا ص طور پر اس کا جواب پوری صراحت اور قوت کے ساتھ ہماری بہنوں اور بیٹیوں ہی کی جانب سے دیا جائے ۔اس مقصد سے مناسب ہوگا کہ جہاں ممکن ہو وہاں خواتین کے خاموش پر امن جلوس نکالے جائیں ۔اورسرکاری ارباب مجاز کے ذریعہ ارباب حکومت تک میمورنڈم ومکتوبات اور محضروں کے ذریعہ اپنی آواز پہنچائی جائے۔اسی مناسبت سے شہر جالنہ میں بھی مورخہ ۱۷ فروری بروز سنیچر صبح دس بجے بمقام ملٹی پرپز ہائی اسکول سے عید گاہ تک ریلی نکال کر تحفظ شریعت کااجلاس منعقد کیا جائے گا۔بعد ازاں نمائندہ خواتین کا ایک وفد ضلع کلکٹر جالنہ کو میمورنڈم دے گا ۔اس طرح کا فیصلہ اقصیٰ فنکشن ہال قدیم جالنہ میں لیا گیا ہے۔ جس میں علماء کرام ،سیاسی قائدین ،دانشوران قوم اور شہریان و نوجوانوں نے شرکت کی تھی۔اس احتجاج میں آداب اسلامی کا مکمل خیا ل رکھیں ،اسلامی تہذیب کی پابندی کی جائے ،جلوس مکمل طور پر خاموش اور پر امن ہوگا ،خواتین کے ہاتھوں میں تختیاں ہوں گی جن پر مطالبات لکھیں ہوں گے ۔ اس جلوس کو تمام ہی مکاتب فکر کے نمائندے اور سیاسی پارٹیوں کے ذمہ داران کی تائید و حمایت حاصل ہیں ۔جس میں تمام ہی مکتب فکر کی خواتین شرکت کریں گی ۔وہیں ملت اسلامیہ سے گزراش کی جاتی ہیکہ وہ اس جلو س میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔ علمائے کرام‘ ائمہ عظام ،اور سماجی و سیاسی اور سرکردہ شخصیات سے اپیل ہیکہ اس جلو س کے تعلق سے خواتین میں بیداری پیدا کریں اور اہلیان شہر سے بھی التجا ہی کہ وہ تحفظ شریعت کی خاطر اپنے گھر کی خواتین کو اس جلو س میں روانہ کریں ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!