Published From Aurangabad & Buldhana

آسام : سینے تک پانی میں ڈوب کر ترنگے کو دی تھی سلامی ، اب این آر سی میں نام نہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدر کے علاوہ اس کے کنبہ کے سبھی لوگوں بشمول ماں ، 12 سال کا بھائی ، 6 سال کی بہن اور داد عالم خان کے نام این آر سی ڈرافٹ میں شامل ہے۔

ملک آج آزادی کا جشن منارہا ہے ۔ گزشتہ سال 15 اگست کو وائرل ہوئی آسام کی ایک تصویر کافی موضوع بحث بنی تھی ۔ اس تصویر میں آسام کے دھبری ضلع میں دو بچے ایک پرائمری اسکول کیمپس میں سینے تک پانی میں ڈوب کر ترنگے جھنڈے کو سلامی دیتے ہوئے نظر آرہے تھے ۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک بچے کا نام آسام کے این آر سی میں شامل نہیں ہے۔

تصویر میں دونوں بچوں کے ساتھ ان کے دو ٹیچر بھی سلامی دیتے نظر آرہے تھے ۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے ایک بچہ حیدر خان ( 10) کا نام آسام میں حال ہی جاری این آر سی کے حتمی مسودہ میں شامل نہیں ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدر کے علاوہ اس کے کنبہ کے سبھی لوگوں بشمول ماں ، 12 سال کا بھائی ، 6 سال کی بہن اور داد عالم خان کے نام این آر سی ڈرافٹ میں شامل ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق حیدر کے والد روپنل خان کا سال 2011 میں کوکراجھار میں قتل کردیا گیا تھا ۔ دھبری ضلع کے برکلیا-نسکارا گاوں میں رہنے والے حیدر کا کہنا ہے کہ میں این آر سی کے بارے میں نہیں جانتا ، علاقہ کے سمجھدار لوگ جو بتائیں گے وہی کروں گا۔
وائرل تصویر کے بارے میں حیدر نے کہا کہ سب کچھ پانی میں ڈوب گیا تھا ، اسکول میں جہاں قومی جھنڈہ لہرایا جارہا تھا ، وہاں دیگر بچے جانے سے ڈر رہے تھے ، لیکن زیارل اور میں تیر کر اس جگہ پہنچے اور جھنڈے کو سلامی دی ۔ دراصل اس تصویر کو مقامی پرائمری اسکول کے ایک ٹیچر میزان الرحمان نے اپ لوڈ کیا تھا اور یہ وائرل ہوگئی تھی ۔

قابل ذکر ہے کہ آسام میں 30 جولائی کو این آر سی کا دوسرا مسودہ جاری کیا گیا تھا ، جس میں 40 لاکھ لوگوں کے نام شامل نہیں ہیں۔ ریاست میں رہ رہے کل 3.29 کروڑ درخواست دہندگان میں سے 2.90 کروڑ شہری ویلڈ پائے گئے ہیں۔ آسام این آر سی کا پہلا ڈرافٹ 30-31 دسمبر 2017 کو جاری ہوا تھا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!