Published From Aurangabad & Buldhana

آرایس ایس کی افطار پارٹی کا مسلم تنظیموں نے کیا بائیکاٹ کا اعلان،ابو عاصم اعظمی نے کہا ’’قوم کے دلال ہی اس میں شامل ہوں گے‘‘۔

ممبئی/ نئی دہلی: رمضان المبارک 2018 میں دوسرا عشرہ ختم ہونے کے قریب ہے۔ رمضان کا نصف ماہ ختم ہوتے سیاسی پارٹیوں کا دور شروع ہوجاتا ہے۔ اس میں مسلمانوں کا ہمدرد ہونے اور خود کو ان سے قریب کرنے کا مقصد ہوتا ہے۔ اسی ضمن میں آرایس ایس کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ نے بھی کل افطار پارٹی کا اہتمام کیا ہے۔ تاہم اس افطار پارٹی کا مسلم تنظیموں نے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی مسلم رہنماوں کی طرف سے بھی سخت ردعمل آیاہے۔
دوسری طرف سماجوادی پارٹی کے مہاراشٹر یونٹ کے سربراہ اورمسلم ممبراسمبلی ابوعاصم اعظمی نے نیوز 18 اردو سے ٹیلیفونک بات چیت میں نہ صرف مسلمانوں سے اس افطار کی بائیکاٹ کی اپیل کی ہے بلکہ یہ بھی کہا کہ ہے جو اس افطار پارٹی میں شامل ہوں گے وہ قوم کے دلال ہوں گے۔

ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ کوئی بھی مسلمان جو اللہ کی رضا اور عبادت کے لئے روزہ رکھتا ہے، وہ اس افطار پارٹی میں شامل نہیں ہوگا، لیکن جو لالچی لوگ ہوں گے، وہ جائیں گے اور تلوے چاٹنے والے شامل ہوں گے ، کیونکہ ان کو عہدوں کی تلاش ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ روزہ رکھنا ایک مذہبی فریضہ ہے، لیکن یہ مسلم راشٹر یہ منچ کے لوگ تو مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں، اس لئے اگران کو افطار پارٹی دینی ہے تو پہلے اپنی نیت صاف کریں۔ مسلمانوں اور ہندووں میں بھائی چارہ اور امن عام کریں، دلالی بند کریں۔ پھر جس طرح سے ہم ہندو مسلم ایک ساتھ بیٹھ کر عید اور دیوالی مناتے ہیں، اس کے لئے ہم تیارہیں۔ لیکن بابری مسجد منہدم کرنے والوں اور رام مندر کے لئے اینٹ پہنچانے والوں اور نفرت کرنے والوں کی افطار پارٹی میں مسلمانوں کو شریک نہیں ہونا چاہئے۔
واضح رہے کہ آرایس ایس کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ نے کل ممبئی کے سرکاری گیسٹ ہاوس میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا ہے، لیکن اس سے قبل ہی جب ممبئی کی مسلم تنظیموں نے اس افطار پارٹی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا تو ہنگامہ مچ گیا۔ مسلم تنظیموں نے مسلم راشٹریہ منچ کی افطار پارٹی سے دور رہنے کی اپیل کرکے اس کو متنازعہ بنادیا ہے۔
واضح رہے کہ مسلم راشٹریہ منچ کی جانب سے گزشتہ سال دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی افطار پارٹی منعقد کی گئی تھی، جس پر بھی کافی ہنگامہ ہوا تھا اور زبردست طریقے سے مخالفت ہوئی تھی۔ مسلم تنظیموں کا الزام ہے کہ مسلم راشٹریہ منچ مسلم مخالف ایجنڈے پر گامزن ہے۔ اس لئے اس کی افطار پارٹی میں مسلمانوں کو شریک ہونے سے بچنا چاہئے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!